نوائے وقت گروپ کے انگریزی اخبار دی نیشن کے سابق رپورٹر اسرار احمد راجپوت نے ادارے کی انتظامیہ پر طویل عرصے سے تنخواہوں اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کا الزام عائد کرتے ہوئے معاملے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر رمیزہ نظامی کے دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا۔اسرار احمد راجپوت نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز کے سلسلے میں دعویٰ کیا کہ انہیں تقریباً 62 لاکھ روپے کی بقایاجات ادا نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق اس رقم میں 24 ماہ تک کی تنخواہیں اور دیگر مراعات شامل ہیں جو ملازمت کے دوران جمع ہوئیں۔ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی رقم کے حصول کے لیے رمیزہ نظامی کے دفتر جا رہے ہیں اور خبردار کیا کہ جب تک ادائیگی نہیں کی جاتی وہ دھرنا دیں گے۔ بعد ازاں جاری کی گئی ویڈیوز میں انہوں نے تصدیق کی کہ وہ دفتر کے باہر احتجاج شروع کر چکے ہیں اور فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ مسئلہ صرف ان کا ذاتی نہیں بلکہ ادارے سے وابستہ سینکڑوں کارکنان اور رپورٹرز بھی تنخواہوں کی تاخیر کا شکار رہے ہیں، جن میں سے بعض کو مبینہ طور پر 30 ماہ تک ادائیگی کا انتظار کرنا پڑا۔اسرار راجپوت نے قانونی عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقریباً 18 ماہ قبل واجبات کی وصولی کے لیے باضابطہ درخواست دائر کی تھی، تاہم تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق متعلقہ عملدرآمد ٹربیونل سے بھی رجوع کیا گیا لیکن مخالف فریق کی عدم پیشی کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔انہوں نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے حوالے سے بھی دعوے کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔دوسری طرف دی نیشن کی انتظامیہ اور رمیزہ نظامی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔۔
