چینلز جتنے تیزی سے بنے،اتنی تیزی سے بند ہوسکتے ہیں۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

پاکستان کی حکومت نے عالمی سطح پر اپنا تشخص بہتر بنانے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کر دی ہے، جس کے اثرات افغانستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کی کوریج میں بھی نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ یہ میڈیا مہم دراصل پاکستان کی جانب سے خود کو مغربی دنیا، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ایک اہم شراکت دار اور خطے میں  سفارتی قوت کے طور پر پیش کرنے کی نئی کوشش کا حصہ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے صحافیوں سے رابطے کیے اور انہیں ریاست کے مؤقف کے حامی انگریزی زبان کے نیوز چینلز شروع کرنے کی ترغیب دی۔ اسی سلسلے میں اکتوبر میں سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کو بھی  نئے انداز میں دوبارہ لانچ کیا گیا۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے اس موقع پر کہا کہ  ادارے کا نیا ڈیجیٹل شعبہ غیر ملکی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرے گا اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرے گا۔ان نئے چینلز کی توجہ دو اہم اہداف پر مرکوز رہی ہے ۔ انڈیا اور افغانستان میں  طالبان حکومت۔ ان چینلز کی رپورٹنگ میں بھارت پر سخت تنقید دیکھنے میں آئی، جبکہ افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کو زیادہ تر پاکستانی فوج کے مؤقف کے مطابق پیش کیا گیا، جس میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ حملے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

وزیر اعظم کے ترجمان مشریف زیدی کے مطابق پاکستان ماضی میں اپنے موقف کو کو پیش کرنے میں حد سے زیادہ محتاط رہا ہے، مگر اب یہ صورتحال بدل رہی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق یہ حکمتِ عملی گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کے بعد اپنائی گئی، جب سوشل میڈیا پر بھارت کے حق میں مواد کی بھرمار نے پاکستان کو “دباؤ” میں ڈال دیا تھا۔ اس دوران دونوں ممالک کے میڈیا نے غلط معلومات کو بھی فروغ دیا۔

اس کے جواب میں حکام نے میڈیا مالکان کو نئے انگریزی چینلز شروع کرنے کی ترغیب دی، جس کے لیے ٹیکس میں چھوٹ جیسی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ عہدیدار کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی انگریزی چینل حکومتی حمایت کے بغیر پائیدار نہیں ہو سکتا۔

بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد دو نئے انگریزی نیوز چینلز شروع کیے گئے جبکہ مزید دو پر کام جاری ہے۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کی وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اسی دوران آرمی چیف سید عاصم نیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے، اور مختلف معاشی و سفارتی اقدامات کے ذریعے امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔پاکستان خود کو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر ایک اہم سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان ترکی کے ٹی آر ٹی اور قطر کے الجزیرہ ٹی وی جیسے کامیاب سرکاری میڈیا ماڈلز کو اپنانا چاہتا ہے، جو عالمی سطح پر اپنے ممالک کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے اقدامات زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہے۔ صحافی عارفہ نور کے مطابق یہ کوششیں عموما بحران کے وقت  تیز ہوتی ہیں، مگر اس کے بعد کی حکمتِ عملی واضح نہیں ہوتی۔دوسری جانب میڈیا پر حکومتی کنٹرول کے حوالے سے خدشات بھی برقرار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صحافیوں کو سنسرشپ، مالی دباؤ، بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے، اشتہارات کی بندش اور گرفتاریوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ معروف اخبارڈان بھی سرکاری  اشتہارات کی بندش کے باعث مالی بحران سے دوچار ہے۔

بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودھ آؤٹ بارڈرز کے مطابق پاکستان  پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں 158ویں نمبر پر ہے۔اگرچہ یوٹیوب اور پوڈکاسٹس جیسے پلیٹ فارمز پر کچھ حد تک آزادی موجود ہے، تاہم ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر میڈیا کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔نئے چینلز کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ آزادی برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان ٹی وی کے سربراہ عادل شہزیب کے مطابق، “ہم کوشش کریں گے کہ بطور سرکاری ادارہ بھی زیادہ سے زیادہ خودمختاری برقرار رکھیں۔کراچی میں قائم نئے چینل “ایشیا ون” کے ڈائریکٹر نوید قمر کے مطابق چینل میں 250 افراد کو ملازمت دی گئی ہے، جن میں غیر ملکی اینکرز بھی شامل ہیں تاکہ عالمی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ چینلز جتنی تیزی سے قائم ہوئے ہیں، اتنی ہی تیزی سے بند بھی ہو سکتے ہیں۔ ماہر تعلیم شاہ زیب جیلانی کے مطابق یہ مواقع سیکھنے اور کمانے کیلئے تو اچھے ہیں، مگر یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ آپ کس کیلئے کام کررہے ہیں۔۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں