social media or propaganda

پانچ رکنی سوشل میڈیا اتھارٹی   کیسے کام کرے گی؟ سوالات اٹھ گئے۔۔

سوشل میڈیا اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔سینئر قانون دان ایاز شوکت کو 5 سال کے لیے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا پہلا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔اتھارٹی کے دیگر ممبران میں سہیل اقبال بھٹی، عدنان خان،  محمد سلمان ظفر، فہد ملک اور سعد علی شامل ہیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے چیئرمین اور 5 ممبران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جو 5 سال کی مدت کے لیے ہوگا۔ایاز شوکت اس سے قبل بطور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ عید کے بعد بطور چیئرمین عہدہ سنبھالیں گے۔اتھارٹی کے قیام کے بعد فیک یا غلط معلومات اور خبروں سے متاثرہ کوئی بھی شخص شکایت درج کرا سکے گا، جبکہ ادارے کو متعلقہ مواد بلاک کرانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اتھارٹی شکایت موصول ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر احکامات جاری کرے گی۔اس حوالے سے سینئر صحافی احسان کوہاٹی المعروف سیلانی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ ۔۔ حکومت نے بلآخر سوشل میڈیا پر ہاتھ ڈال ہی دیا پہلے سوشل میڈیا کا “ڈنک”نکالنے کے لئے پیکا ایکٹ بنایا پھر اس قانون میں ترمیم کی اور ایک سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر ڈالی ،گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کے حوالے سے حکومت کو کھینچا،وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا تو آج حکومت نے اتھارٹی کو ایک چیئرمین اور اس کے پانچ ممبران کو تحفہ دے دیا یعنی اتھارٹی فعال ہوگئی کہا جارہا ہے کہ یہ  اتھارٹی  جعلی خبروں، نفرت انگیز مواد، دہشت گردی کی تشہیر، اور دیگر غیر قانونی یا جارحانہ آن لائن مواد کو روکنے اور کنٹرول کرے گی ۔ اتھارٹی کو جرمانے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پابندی ، جرمانے یا پابندی لگانے کے وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں،میڈیا کہہ رہا ہے کہ اتھارٹی میں کوئی بھی شکایت درج کرا سکے گا اور اتھارٹی چوبیس گھنٹوں کے اندر احکامات جاری کرے گی اور یہی بات سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان میں اکاون لاکھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور آٹھ کروڑ سوشل میڈیا صارفین کی شکایات کے لئے یہ کمیٹی کن جنات سے چھان بین کرے گی؟ فریقین میں سے کس کو کیسے سنے گی اور درست غلط کا فیصلہ کیسے ہوگا؟تنقید اور توہین کا فرق کیسے سمجھے گی کیا کارٹون اور میمز کو بھی توہین کے زمرے میں لیا جائے گا ۔۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں