ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی جاوید اقبال سپرا نے فرسٹ ایئر کے حتمی نتائج کے اعلان سے ایک روز قبل چیئرمین راولپنڈی تعلیمی بورڈ ڈاکٹر غلام دستگیر کے صاحبزادے کے نتیجہ کی خبر درست ثابت ہونے کے باوجود رپورٹر کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر درخواست فریقین کے وکلاء کی تفصیلی بحث سننے کے بعد خارج کر دی، تعلیمی بورڈ کی طرف سے اندراج مقدمہ کی درخواست کا مقصد رپورٹر سے اسکا سورس معلوم کرنا تھا، عدالت نے دوران سماعت راولپنڈی تعلیمی بورڈ کی سیکریسی برانچ کے انچارج (اسٹنٹ کنٹرولر سیکریسی) سے خبر کی درستگی اور بورڈ کی انٹرنل انکوائری کے نتیجہ سمیت دیگر متعدد امور پر سوال اٹھائے جس کا وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو عدالت نے قرار دیاکہ جب بورڈ کی اپنی سیکریسی ہی سیکریسی نہیں رہی تو پھر ایک رپورٹر جس نے خبر دی اس کے خلاف کیونکر مقدمہ درج کروانے پر زور دیا جا رہا ہے، تعلیمی بورڈ کے جو جو آفیشل سیکریسی بارے آگاہ تھے بورڈ ان میں سے چور کو کیونکر نہیں ڈھونڈ پا رہا، بورڈ عدالت کو مطمئن کرے کہ درست خبر دینے پر بھی کس قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے،عدالت میں مقامی صحافی خان گلزار حسین کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی تو عدالت کو بتایا گیا کہ ایک بوگس خبر سے بورڈ کی سیکریسی لیک ہوئی، بورڈ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی جبکہ مقامی صحافی کی جانب سے ملک کاشف ایڈوکیٹ، نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری انور رضا کی جانب سے جہانگیر جدون، راولپنڈی کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر ملک عمران کی جانب سے نعیم الحسن اعوان ایڈوکیٹ جبکہ کرائم اینڈ سٹی رپورٹرز کے ملک شاہد کی جانب سے اصغر علی مبارک ایڈوکیٹ پیش ہوئے، کمرہ عدالت میں افضل بٹ، عامر سجاد سید، شکیلہ جلیل، نوید قریشی، شاہدملک، گل قیصر خان، انوار مغل کے علاوہ سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ،دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے بورڈ کی طرف سے دائربائیس اے (داد رسی) کی درخواست خارج کردی۔

