ہیومین رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا ہے کہ پاکستان میں مجوزہ پی ایم ڈی اے آزادی اظہار پر کریک ڈاؤن کی مہم کا حصہ ہے، پاکستانی حکومت کا مجوزہ پی ایم ڈی اے کا مقصد میڈیا پر وسیع کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ مجوزہ قانون سے حکومت کو میڈیا اداروں اور صحافیوں کو سزا دینے کے وسیع اختیارات مل جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ہیومین رائٹس واچ کی ایسوسی ایٹ ایشیاء ڈائریکٹر پٹریکا گوسمین نے لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنے کے نئے اختیارات تلاش کررہی ہے، جو کہ آزادی اظہار پر کریک ڈائون کی مہم کا حصہ ہے۔ صحافی، انسانی حقوق کے رہنمائوں اور سیاست دانوں نے مجوزہ قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کیوں کہ اس سے حکومت کو میڈیا کو محدود کرنے کے اختیارات مل جائیں گے۔ حکومت ایک آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے ذریعے فریکچر ریگولیٹری ماحول اور بکھری ہوئی میڈیا ریگولیشنز کو بدلنا چاہتا ہے۔ مجوزہ پی ایم ڈی اے سے پاکستان کے تمام میڈیا ذرائع، پرنٹ، ٹیلی وژن، ریڈیو، فلمز اور ڈجیٹل میڈیا کو ایک چھتری تلے لایا جائے گا۔ پیمرا طویل عرصے سے حکومت کی میڈیا کو دبانے کی مہم کا حصہ رہا ہے۔ وہ ٹیلی وژن چینلز کو حکومت پر تنقید کرنے والے پروگرام بند کرنے کے احکامات دیتا رہا ہے، اپوزیشن رہنمائوں کے براہ راست انٹریوز معطل کرنا اور کیبل آپریٹرز کو براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس سے بلاک کرتا رہا ہے۔ صحافیوں، انسانی حقوق کے رہنمائوں اور وکلا کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی اے قانون سے حکومت کو میڈیا کنٹرول کرنے کے نئے اختیارات مل جائیں گے جو میڈیا ٹریبونلز قائم کرکے انہیں کنٹرول کرے گا۔ وہ میڈیا اداروں اور صحافیوں پر بھاری جرمانے عائد کرے گا جو اس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریں گے یا ایسا مواد شائع یا نشر کریں گے جو ان کے مطابق جعلی خبر ہوگی۔ مجوزہ قانون سے حکومت کا کنٹرول اس لیے بھی بڑھ جائے گا کیوں کہ وہ سرکاری حکام کو اہم عہدوں پر تعینات کرسکے گی۔ حکومت نے پی ایم ڈی اے قانون کا حتمی ڈرافٹ اور اس کا مکمل عمل صیغہ راز میں رکھا ہے، جس کی وجہ سے میڈیا اور سول سوسائٹی گروپس کے تحفظات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ حکومت نے کئی بامعنی مشاورتی عمل بھی شروع نہیں کیا ہے۔ میڈیا ریگولیٹری فریم ورک میں ترامیم کی ضرورت ہے لیکن حکومتی سینسرز کو مزید اختیارات تفویض کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ آزاد میڈیا ریگولیٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا مقصد آزادی اظہار رائے کا تحفظ ہو۔ جہاں صحافیوں کو اپنی ذمہ داری کے نتیجے میں بےتحاشہ حملوں کا سامنا ہے، حکومت پاکستان کو رپورٹرز کو کنٹرول کرنے کے بجائے میڈیا کی آزادی کا تحفظ شروع کرنا چاہیئے۔

