literary festival lahore

میڈیا متحد نہیں رہا، لٹریری فیسٹول۔۔

تین روزہ لاہور لٹریری فیسٹول شروع ہوگیا۔پہلے روز چار سیشن ہوئے۔’ حاکم کے سامنے حق گوئی ‘کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے زاہد حسین نے کہا مشرف دور حکومت میں میڈیا ہائوسز پر شروع ہونے والا کریک ڈائون رکنے میں نہیں آرہا ہے۔ماضی میں ناپسندیدہ کالم خبر یا مضمون کی اشاعت پر صرف   پی آئی ڈی سے نوٹس موصول ہو تا اور پچاس ہزار جرمانہ ہوا کرتا تھا جو ہم نے کبھی ادا نہ کیا۔اگر کسی کو گرفتار کیا جاتا تو معلوم ہوتا تھا کس نے گرفتار کیا ہے اور کہاں رکھا گیا ہے۔اب اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ناپسندیدہ خبروں کو سنسر کیا جارہا ہے۔ میڈیا ہائوسز پر ضربیں لگا ئی جا رہی ہیں۔آئی اے رحمان نے کہاماضی میں صحافت کو کھلے چینلج درپیش ہوا کرتے تھے۔ یعنی قانون کی تھوڑی سی تو پاسداری کی جاتی تھی آج صرف فون کرکے صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوادیا جاتا ہے۔ مخصوص علاقوں میں اخبارات کی تقسیم اور چینلوں کی نشریات پر پابندی ہے۔ صحافیوں کی مدد کیلئے کوئی آگے نہیں آرہا ہے۔میڈیا متحد نہیں رہا ہے۔اصل مصیبت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ہمارے پیچھے چل رہی ہیں جبکہ انھیں ہمارے آگے آگے چلنا چاہیے۔ پارلیمنٹ سمیت ہر جگہ سےمکالمہ کی روایت کو ختم کیا جارہا ہے۔حمید ہارون نے سوال اٹھاتے ہوئے کہاصحافیوںکو خوفزدہ کیا جارہا ہے کہ انھیں راستے سے ، گھروں سے اٹھا لیاجائیگا۔انھیں قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں انکے تحفظ کو غیر یقینی بنا دیا گیا ہے۔ میڈیا سےایجنڈا سیٹنگ کروائی جارہی ہے ۔ حالانکہ اردو اور انگریزی میڈیا کے ماڈل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ طلعت اسلم نے کہا سندھ کی ایک سیاسی جماعت مذموم عزائم کے تحت گلیوں میں ویرانی برپا کرکے صحافیوں کو قتل ، اغوا اور ان پر تشدد کیا کرتی تھی۔آج تو یہ حالت ہے کہ ہمارا میڈیا اور انکا میڈیا قرار دیکر میڈیا کی تقسیم کردیا گیا ہے ۔

How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں