سینئر صحافی فصیح الرحمان کو لاہور کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا۔۔ تدفین کے موقع پر ان کا سولہ سالہ اور تیرہ سالہ بیٹا بھی موجود تھے جب کہ دو چھوٹی بیٹیاں آٹھ اور سات سالہ گھر پر ماں کے ساتھ اشک بار آنکھوں سے سوگوار تھیں۔۔ فصیح الرحمان اسلام آباد میں کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھے جہاں انہیں ہارٹ اٹیک کے ساتھ ساتھ برین ہیمرج بھی ہوا، انہوں نے آخری وقت میں اپنی اہلیہ کو بتادیاتھا کہ اب وہ نہیں بچیں گے۔۔اطلاعات کے مطابق مرحوم کافی عرصے سے بیروزگار تھے۔۔ اور کچھ عرصے سے اپنے قریبی احباب کو بتارہے تھے کہ وہ اپنی زندگی کی آخری اننگز کھیل رہے ہیں۔۔ایک سینئر صحافی کے بقول مرحوم کے بڑے بیٹےنے انہیں قبرستان میں تدفین کے موقع پر بتایاتھا کہ ان سب کا گزارہ جمع پونچی پرہورہا تھا، مرحوم کا بینک اکاؤنٹ زیرو ہوچکا ہے۔۔انہوں نے بہت سے اعلی صحافتی عہدوں پر کام کیا۔ اپنی رپورٹنگ سے بہت نام پیدا کیا۔ دی نیشن میں بھی وہ کام کرتے رہے۔ دنیا ٹی وی میں بھی وہ بیورو چیف رہے۔ ایکسپریس میں بھی کئی کارنامے سر انجام دیے۔ جیو ٹی وی کی لانچنگ ٹیم کا حصہ بھی رہے۔ خلیج ٹائم کے لئے بھی کام کیا۔ بین الاقوامی روناموں سے بھی منسلک رہے۔ جہاں جہاں موقع ملے قلم کی تلوار چلاتے رہے۔۔فصیح کافی عرصہ سے بیروزگاری کا شکار تھا، اور اس کی موت کے بعد اب اہل خانہ کے پاس نہ کوئی ذریعہ آمدن رہا اور نہ بینک اکائونٹ میں رقم۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ میڈیا جو کہ جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے، اس سے وابستہ افراد اس قدر لاچار اور بد حال ہیں۔ بیروزگار صحافیوں کی معاونت اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف، حکومت اور صحافتی تنظیموں کو ٹھوس لائحہ عمل بنانے کی فوری ضرورت ہے۔پپو نے حکومت پنجاب، وفاق ، مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور صحافتی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ مرحوم کے اہل خانہ کی جلدازجلد کفالت کے لئے اقدامات کئے جائیں، مرحوم کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کےلئے کوشش کی جائے اور کوئی ایسا انتظام کیاجائے جس سے لواحقین کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔۔صحافی مطیع اللہ جان کے مطابق چند ہفتے قبل فصیح ان کے ساتھ ایک یوٹیوب چینل کے شو میں تھے اور اپنی زیابیطس کا ذکر کر ہے تھے۔ صحافی عمرچیمہ، مرتضیٰ سولنگی اور مبشر زیدی نے بھی فصیح الرحمان کی اچانک موت کو انتہائی افسوس ناک خبر قرار دیا ۔ وفاقی دارالحکومت جہاں فصیح نے اپنا زیادہ تر کیریئر گزارا کا ہر صحافی آج سوگوار نظر آ رہا ہے ۔

