نجی ٹی وی چینل کے ٹی این کے صحافی عزیز میمن کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔محراب پور میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ، رکن صوبائی اسمبلی سرفراز شاہ سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔صحافی عزیز میمن کی لاش گزشتہ روز محراب پور میں نہر سے ملی تھی جبکہ ان کی گردن پر چینل کے مائیک کا تار بندھا ہوا تھا۔اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ کھوجی کتوں کی مدد سے شواہد ملے ہیں کہ صحافیوں کو جھاڑیوں میں یرغمال بناکر تشدد کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے کیمرا مین اویس قریشی کے بیان میں بھی تضاد ہے جبکہ مقتول صحافی کے بھائی نے بھی قتل میں کیمرا مین کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کردیا۔علاوہ ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ باقاعدہ مقدمہ کل محراب پورتھانے میں درج کروایا جائے گا۔صحافی کے قتل پر صحافی تنظیموں کی جانب سے سکھر، پڈعیدن اور ٹنڈو محمد خان میں احتجاجی مظاہرے کیے اور قاتلوں کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔دریں اثناآل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن نے محراب پور میں صحافی عزیز میمن کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکریٹری جنرل سرمد علی نے فرائض کی ادائیگی کے دوران میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد پر مسلسل حملوں اور اُن کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پر زور دیا کہ وہ عزیز میمن کے قاتلوں کو فوری گرفتار کریں۔ادھر الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹر و نیوز ڈائریکٹرز کی ایسوسی ایشن کے صدر اظہر عباس اور سیکریٹری جنرل عماد یوسف نے کہا ہے کہ میڈیا برادری تشدد کے اس سفاکانہ واقعے پر صدمے میں ہے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ صحافی کے قتل میں ملوث افراد کو شناخت کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے بھی صحافی عزیز میمن کے قتل کی شدید مذمت کی ہے، پی بی اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عزیز میمن پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے، یہ حملہ آزادی اظہار پر حملہ ہے، قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔دوسری جانب کراچی پریس کلب پر صحافیوں کے احتجاج میں وزیراطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ بھی شریک ہوئے اور انہوں نے صحافیوں کے مسائل جلد حل کرانےکی یقین دہانی کرائی ہے۔صوبائی وزیراعطلاعات کراچی پریس کلب پہنچے جہاں انہوں نے صحافیوں کے مظاہرے سے خطاب کیا۔وزیر اطلاعات نے صحافی عزیز میمن کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نے ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات دے دیے ہیں۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ عزیز میمن کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہیں، کسی سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، واقعے میں جس کی کوتاہی ہوگی اس کےخلاف کارروائی ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ آئی جی سندھ تبدیل ہونا چاہیے، ایسے واقعات ہوجاتے ہیں، ان کو آئی جی کے ایشو سے نہ ملایا جائے۔

