sahafion par firing ki muzammat karte hein

سندھ میں صحافی کی پراسرار ہلاکت معمہ؟؟

بلاول بھٹو کی ٹرین مارچ میں کرائے کے لوگوں کی خبر دینے والے صحافی کو دھمکی آمیز پیغامات دینے کے بعد قتل کردیا گیا ۔تفصیل کے مطابق سندھ کے علاقے محراب پور سے تعلق رکھنے والے صحافی عزیز میمن نے بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ میں کرائے کے لوگ لائے جانے کی خبر دی تھی جس کے بعد سے انہیں دھمکیاں موصول ہوئی تھیں ۔دھمکیاں ملنے کے بعد صحافی نے ایک ویڈیو پیغام بھی دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق کسی جماعت سے نہیں ہے میں ایک نیوٹرل آدمی ہوں اور میں نے بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ میں بلائے گئے لوگوں کو پیسے دینے کی سٹوری بریک کی تھی جس کے بعد پولیس مجھے دھمکیاں دے رہی ہے جب کہ میرے اہل خانہ کو بھی دھمکیاں مل رہی ہے لہذا مجھے انصاف دیا جائے۔مقامی پولیس کے مطابق انھیں کسی تار سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ محراب پور تھانے کے ایس ایچ او عظیم راجپر کے مطابق سینئرصحافی عزیز میمن کی لاش شہر سے باہر ہندوؤں کے شمشان گھاٹ کے نزدیک روہڑی کینال سے نکلنے والی نہر گودو شاخ سے ملی۔وہ پیشہ ورانہ فرائض کے لیے ساتھی کیمرا مین اویس قریشی کے ساتھ اسائنمنٹ پر گئے تھے۔ صحافی کی میت پوسٹ مارٹم کےبعدورثاکےحوالےکردی گئی۔اسپتال ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ2یا3دن میں ملے گی۔ابتدائی طور پر پانی میں ڈوب کر مرنے کے شواہد ملے۔پولیس ذرائع کے مطابق حراست میں لئےگئےکیمرہ مین کےبیانات میں تضادہے۔کیمرہ مین نےجس جگہ صحافی کوچھوڑنےکابتایاوہاں کوئی شواہدنہیں ملے۔صحافی اپنے دونوں موبائل گھر چھوڑآیاتھا۔۔پولیس نے ابتدائی تفتیش کےلیے کیمرا مین سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔مبینہ طور پر عزیز میمن کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بھی کیا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے پر ڈی آئی جی نواب شاہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔عزیز میمن 35 سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ تھے اور پچھلے 27 برس سے سندھی روزنامہ کاوش اور کے ٹی این نیوز چینل کے رپورٹر تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ، دو بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔دریں اثناکراچی یونین آف جرنلسٹس سندھ کے شہر محراب پور میں کاوش اور کے ٹی این کے رپورٹر عزیز میمن کی بے دردی سے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ کے یو جے کے صدر حسن عباس۔ جنرل سیکرٹری عاجز جمالی اور ایگزیکٹو کونسل کے اراکین نے نوشہرو فیروز پولیس کی جانب سے صحافی کو تحفظ دینے کے بجائے تنگ کرنے اور دن دہاڑے پھر صحافی کا قتل ہونے پولیس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نوشہروفیرز ضلع میں ایک ہی دن قتل حکمران پارٹی کی خاتون ایم پی اے قتل ہوگئی دوسرے دن سینئر صحافی قتل ہوگیا کے یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے تحفظ میں ناکام پولیس افسران کو گرفتار کیا جائے۔ صحافی عزیز میمن نے خود اپنی وڈیو میں ایس ایس پی نوشہرو فیروز پر الزام عائد کیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بلا آخر اتوار کے روز صحافی کو قتل کرنے کے بعد نعش نہر میں پھینک دی گئی۔ کے یو جے صحافی کے قتل پر شدید احتجاج کرتی ہے اور سندھ حکومت کو متنبہ کرتی ہے کہ اگر تین دن کے اندر صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا تو صحافتی تنظیموں کے ہمراہ ملک بھر میں عزیز میمن کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں گے۔

How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں