جنگ گروپ میں 50فیصد چھانٹیوں کا فیصلہ کرلیا گیا ۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ نام نہاد میڈیا بحران کی آڑ میں جنگ گروپ نے مزید 50 فیصد ملازمین فارغ کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے اس حوالے سے فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں ۔ جبکہ جنگ ملتان اسٹیشن کو اگلے ہفتے بند کیا جارہاہے۔۔مرکزی آفس کو تبدیل کرکے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں منتقل کرنے کے بعد بڑی تعداد میں ملازمین فارغ کردئیے ہی، جن کے گھروں پر ٹی سی ایس کے ذریعے برطرفی کے کے پروانے بھیجے جارہے ہیں۔۔ جبکہ اب جنگ ملتان کو اب کراچی سے تیار کرکے بھیجاجائے گا، جس کے لئے ایک اہم اورسینئر عہدیدار کا کراچی ٹرانسفر کردیاگیا ہے۔۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ ملتان اسٹیشن سے پچاس سے زائد ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے اب وہاں صرف چھ رپورٹر رکھے جائیں گے۔پپو نے مزید بتایا کہ جنگ گروپ کے مالکان جو بیرون ملک رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے بھی وابستہ رہے ہیں نے پاکستان میں اپنی قیمتی املاک فروخت کرنا شروع کردی ہیں حیدر آباد میں بھی کافی قیمتی اراضی فروخت کر دی گئی جبکہ روز نامہ جنگ کوئٹہ کا شہر کے وسط میں واقع دفتر اونے پونے داموں فروخت کر کے نواحی علاقے میں پرانی بلڈنگ میں دفاتر شفٹ کردئیے گئے ہیں ۔ پپو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں جنگ گروپ’’دیتے رہو آتا رہے گا‘‘کے مقولے پر کار فرما تھے مختلف شعبوں میں ریزرو میں بھی عملہ تعینات تھا لیکن اب نوبت یہ آ چکی ہے کہ ضروری عملہ بھی فارغ کیا جا رہا ہے پہلے مرحلے میں پچاس سے ساٹھ سال عمر کے ملازمین دوسرے مرحلے میں ساٹھ سے ستر اور اس سے زیادہ کے ملازمین کو فارغ کر دیا جائیگا ۔ ایچ آر ‘سرکولیشن ‘ پرچیزنگ جیسے شعبے بھی ختم کر کے محدود پیمانے پر عملہ تعینات کیا جائیگا ۔ جبکہ نیوز روم کے شعبے کیلئے ایم اے (صحافت و ماس کمیونیکیشن) کی ڈگری لازمی قرار دیا جائیگا جس کے بعد بڑے پیمانے پر نیوز روم کا اسٹاف بھی فارغ ہوجائیگاکیونکہ اکثر ملازمین کے پاس جرنلزم و ماس کمیونیکیشن کی ڈگریاں نہیں ہیں۔

