سہراب برکت کی سپریم کورٹ سے ضمانت، رہائی پھر بھی نہ ہوسکی۔۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے صحافی سہراب برکت کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔سہراب برکت کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج ہے۔کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے دفعہ 302 میں بھی ضمانتیں دی ہیں، اس کیس میں تو سزائے موت بھی نہیں ہے؟انہوں نے استفسار کیا کہ اس وقت پاکستان میں کتنے یوٹیوب چینلز چل رہے ہیں اور کہا کہ سہراب برکت نے انٹرویو کے دوران خود کچھ نہیں کہا، جس نے متنازع گفتگو کی وہ عدالت کے سامنے موجود نہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ٹرائل اس وقت کس مرحلے پر ہے۔ سہراب برکت کے وکیل بیرسٹر سعد رسول نے مؤقف اختیار کیا کہ مرکزی ملزمہ صنم جاوید ہیں لیکن انہیں شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ چالان جمع کرا دیا گیا ہے مگر دفاع کو اس تک رسائی نہیں دی گئی، فردِ جرم عائد نہیں ہوئی اور باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوا۔عدالت کے استفسار پر ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ صنم جاوید کی تفتیش مکمل کرکے سپلیمنٹری چالان جمع کرا دیا گیا ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اگر ملزم نومبر 2025 سے گرفتار اور جوڈیشل ہے تو اب مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ایف آئی اے کے وکیل راجہ علیم عباسی نے عدالت سے کل تک کا وقت مانگتے ہوئے کہا کہ فائل ابھی موصول ہوئی ہے، جائزہ لے کر عدالت کی معاونت کریں گے۔سماعت کے اختتام پر عدالت نے سہراب برکت کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم جاری کر دیا۔سہراب برکت کے وکیل بیرسٹر سعد رسول کے مطابق  سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود برکت کو رہا نہیں کیا گیا۔ سعد رسول کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پیشگی اقدام کرتے ہوئے ایک اور مقدمے، ایف آئی آر نمبر 330/2025، میں ان کی ضمانت منسوخ کروانے کی کارروائی کی، جس کے تحت گزشتہ ہفتے جج مجھوکہ کی عدالت سے ایک حکم جاری ہوا۔بیرسٹر سعد رسول نے بتایا کہ ضمانت منسوخی کے اس حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، جہاں آئندہ ہفتے سماعت کے لیے نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔ انہوں نے حالیہ پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا، تاہم کہا کہ برکت کی رہائی سے قبل ابھی قانونی رکاوٹیں باقی ہیں۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی سہرب برکت کو ان کی رپورٹنگ سے متعلق تین مختلف ایف آئی آرز کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بدھ کے فیصلے سے قبل وہ تین میں سے دو مقدمات میں ضمانت حاصل کر چکے تھے، لیکن متوازی قانونی کارروائیوں اور ایک ضمانت کی منسوخی کے باعث بدستور زیرِ حراست رہے۔یہ کیس اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ایک سے زائد ایف آئی آرز اور ضمانت کی منسوخی جیسے اقدامات اعلیٰ عدالتوں سے ریلیف ملنے کے باوجود حراست کو طول دے سکتے ہیں۔ پاکستانی صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لیے یہ معاملہ اس قانونی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے جس کا سامنا رپورٹرز کو ایک ہی رپورٹنگ کے حوالے سے متعدد مقدمات درج ہونے کی صورت میں کرنا پڑ سکتا ہے، نیز اہم مقدمات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں کے اسٹریٹجک استعمال کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں