سعودی میڈیا گروپ کے زیرِ انتظام اردو زبان کے خبر رساں ادارے “اردو نیوز” نے پاکستان بھر میں متعدد ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے، جس سے پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ملکی میڈیا انڈسٹری میں بے روزگاری کے بحران میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔صحافیوں کی جانب سے اندرونی معلومات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ برطرفیاں مالی مشکلات کے باعث کی گئی ہیں۔متاثرہ افراد میں نیشنل پریس کلب کے نائب صدر بشیر چوہدری اور سینئر صحافی وحید مراد بھی شامل ہیں۔ تاہم برطرف کیے جانے والے ملازمین کی مجموعی تعداد کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ برطرفیاں مختلف بڑے شہروں میں کی گئی ہیں، لیکن متاثرہ دفاتر یا ملازمین کی درست تعداد کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ ادارے کی جانب سے سرکاری بیان جاری نہ کیے جانے کے باعث میڈیا ورکرز اور مبصرین میں تشویش بڑھ گئی ہے۔صحافی رضوان غلزئی نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اس پیش رفت کی نشاندہی کی، جس کے بعد دیگر صحافیوں نے بھی میڈیا ملازمتوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔سینئر صحافی اسد طور نے ان برطرفیوں کو صحافت کے شعبے میں مجموعی تنزلی کا حصہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ روزگار کے مواقع میں کمی نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ کار صحافیوں کی برطرفی اس شعبے میں قدم رکھنے والے نئے گریجویٹس کے لیے مایوس کن اشارہ ہے۔ ۔
