کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ ڈسٹرکٹ کورنگی میں مافیاوں اور پولیس کی کالی بھیڑوں کی ملی بھگت سے صحافیوں کے خلاف پے درپے تشدد اور اغوا کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتی ہے ایک بیان میں صدر طاہر حسن خان جنرل سیکرٹری سردار لیاقت اور اراکین مجلسِ عاملہ نے کہا ہے کہ جنوری2026 میں تین صحافیوں کو اغواء کیا گیا۔ پولیس صحافیوں پر تشدد اور اغواء میں ملوث ملزمان کی مکمل پشت پناہی کررہی ہے۔مافیاؤں کا بے لگام ہونا آزادی صحافی پر بڑی قدغن ہے، ذیشان نواب پر تشدد، امیر الدین کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنانا اور گن پوائینٹ پر اسکی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ۔صدر طاہر حسن خان نے کہا کہ صحافی شہاب سلمان کو اغوا کرنے کی کوشیش کی گئی، پولیس کی موجودگی میں اور تھانے میں اس پر تشدد واضح کرتا ہے کہ پولیس اور مافیا کا گٹھ جوڑ صحافیوں سے اظہار رائے کی آذادی کا حق چھین رہاہے۔ جنرل سیکرٹری سردار لیاقت نے کہا کہ سوشل میڈیا پر صحافیوں کی کردار کشی کرنے والوں کو فوری قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ڈسٹرکٹ کورنگی ملیر میں مافیا کے کارندوں کی صحافیوں کی کردار کشی کی مہم کی مذمت کرتے ہیں انھوں نے مزید کہا کہ آئے دن صحافیوں کے خلاف ایک منظم انداز میں انتقامی کارروائیاں سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا اور کردار کشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اراکین مجلسِ عاملہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مافیا کو لگام نہیں دی تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ صحافی برادری اپنے ساتھیوں ذیشان نواب امیر الدین اور شہاب سلمان کے ساتھ کھڑی ہے، صحافیوں کو اغوا کرنے والوں اور ان پر تشدد کرنے ولے ملزمان کو فوری قانون کی گرفت میں لایا جائے ،حکومت سندھ ان تمام واقعات کا فوری نوٹس لے اور بے لگام مافیا کو لگام دی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں موجود جرائم پیشہ عناصر صحافیوں پر حملہ اغوا اور تشدد کرنے میں ملوث ہیں سیاسی جماعتیں ایسی کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں یہ عناصر سیاسی جماعتوں کے لئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔ مجلس عاملہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف ہر اقدام کو آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ تصور کرتی ہے صحافیوں کے خلاف درج تمام مقدمات کی شفاف تحقیقات اور پیکا سمیت تمام کالے قانون کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
