روایتی میڈیا کا گیٹ کیپنگ ماڈل چیلنج کردیاگیا۔۔

 صحافی ڈین قیوم کے ایک وائرل طویل مضمون، جسے مبینہ طور پر صرف تین دن میں 12 لاکھ سے زائد افراد نے پڑھا، نے نیوز روم گیٹ کیپنگ، ڈیجیٹل تقسیم اور روایتی میڈیا اور آزاد لکھاریوں کے درمیان بدلتے ہوئے طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔وائرل مضمون سے متعلق خبروں کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے ڈین قیوم نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں روایتی ادارتی نظام معلومات کی ترسیل پر اپنی اجارہ داری کھو چکا ہے۔انہوں نے لکھا کہ یہ وہ حقیقت ہے جسے  میڈیا انڈسٹری میں کوئی کھل کر تسلیم نہیں کرنا چاہتا کہ گیٹ کیپنگ ماڈل غرور کی وجہ سے ناکام ہوا۔ڈین قیوم نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ایڈیٹرز یہ طے کرتے رہے کہ عوام کیا پڑھیں گے، کب پڑھیں گے اور کس انداز میں معلومات انہیں فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے مزید لکھا کہ  دہائیوں تک ایڈیٹرز فیصلہ کرتے رہے کہ عوام کو کیا جاننے کی ضرورت ہے، کس وقت، کس لہجے اور کس زاویے سے معلومات دی جائیں۔ عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا، اس لیے وہ اسے قبول کرتے رہے، لیکن اب متبادل موجود ہے۔تقریباً دو دہائیوں کے بین الاقوامی میڈیا تجربے کا دعویٰ کرنے والے ڈین قیوم نے کہا کہ نیوز رومز اور قارئین کے درمیان فاصلے میں مسلسل اضافہ ہوا کیونکہ میڈیا ادارے عوام کے بجائے اپنے پیشہ ور حلقوں کے لیے مواد تیار کرنے لگے۔انہوں نے کہا،میں نے میڈیا انڈسٹری کو اندر سے دیکھا ہے اور اس کی صحافت کا احترام کرتا ہوں، لیکن میں نے یہ بھی دیکھا کہ نیوز رومز اور قارئین کے درمیان فاصلہ ہر سال بڑھتا گیا۔ان کے مطابق صحافت کا انداز اور ساخت بتدریج زیادہ محدود ہوتی گئی۔انہوں نے کہا،قاری ایک  تصور، ایک شماریاتی ہندسہ اور ڈیش بورڈ پر موجود نمبر بن کر رہ گیا، اور تحریر میں بھی یہی فاصلہ نمایاں ہونے لگا۔ڈین قیوم نے اس موقع پر بعض روایتی میڈیا اداروں کی کامیاب ڈیجیٹل حکمت عملیوں کا بھی ذکر کیا۔ڈین قیوم کا کہنا تھا کہ عوام نے سنجیدہ صحافت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ صرف روایتی گیٹ کیپرز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا،قارئین اب بھی موجود ہیں، وہ اب بھی معیاری اور گہرائی پر مبنی صحافت چاہتے ہیں، لیکن اب وہ کسی بڑے ادارے کی منظوری کے منتظر نہیں رہتے۔انہوں نے پاکستان میں طویل انگریزی مضامین کے حوالے سے موجود عمومی تصورات پر بھی سوال اٹھایا۔اپنے بیان کے اختتام پر ڈین قیوم نے کہا کہ اگرچہ روایتی نیوز رومز اب بھی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن معلومات کی تقسیم اور آواز کو نمایاں کرنے پر ان کی مکمل اجارہ داری ختم ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے بہترین صحافی اب بھی روایتی اداروں میں کام کر رہے ہیں، لیکن مواد کی ترسیل کی طاقت تیزی سے آزاد تخلیق کاروں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں