کراچی یونین آف جرنلٹس (کے یوجے) کے صدر طاہر حسن خان ، جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری اور دیگر مجلس عاملہ نے سما ٹی وی میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے کارکنوں کے انٹرویوز، وہاں نوٹسز جاری کئے جانے اور ایک میڈیا ورکر کے دوران ڈیوٹی انتقال پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ورکر ز دشمن اقدامات ، جب کہ دنیانیوز میں بھی برطرفیوں کا عمل شروع کرنے کو مزدور دشمن فیصلہ قرار دیا ہے۔۔کے یوجے کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ سما ٹی وی کی انتظامیہ نے برطرفیوں کے الزام کا سامنا کرنے کیلئے نیا ڈرامہ رچایا گیا ہے، جس کے تحت تھرڈ پارٹی ایچ آر کو ٹاسک دے کر اور اس میں ملوث کرکے ملک بھر میں کارکنوں کے انٹرویوز کئے گئے ۔ سما ٹی وی کے اس اقدام سے جب ورکرز کو نکالا جائے گا اور میڈیا انڈسٹری میں شور مچے گا تو چینل انتظامیہ یہ کہہ کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرے گی کہ کارکنوں کو نکالنے کا فیصلہ ادارے نے نہیں بلکہ تھرڈپارٹی ایچ آر نے کیا۔ کے یوجے کے مطابق سما انتظا میہ نے اپنے مذموم مقاصد استعمال کرتے ہوئے پی سی آر کے چھ ملازمین کو نوٹسز جاری کردیئے، جس سے خوفزدہ ہوکر کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک میڈیا ورکر معیز الدین برین ہیمرج کا شکار ہوکر اس دنیا سے چلا گیا اس سانحہ کی زمہ دار سماء انتظامیہ ہے، دوسری طرف دنیانیوز چینل نے بھی برطرفیاں شروع کردیں اور اپنے بیوروز میں ورکرز کو ایک ماہ کے نوٹسز جاری کردیئے ہیں جو کارکنان کا معاشی قتل عام ہے۔۔ کےیوجے نےمیڈیاہاؤسز میں تنخواہوں کی تاخیر پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے، آج ٹی وی میں فروری سے اپریل تک تنخواہیں واجب الادا ہیں، بول ٹی وی میں بھی مارچ کی سیلری اب تک تقسیم نہیں ہوسکی۔ این ٹی این نیوز میں فروری کے بعد اب تک کسی کو اجرت نہیں دی گئی، اسی طرح دیگر میڈیا ہاؤسز نے بھی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کو معمول بنالیا ہے اور اس کے تحت وہ سال میں بارہ تنخواہوں کی جگہ اب آٹھ سیلریاں دینے لگے ہیں جو غیرقانونی اور مزدور دشمن اقدامات ہیں۔ کے یوجے نے سما ٹی وی ، دنیا نیوز کو کارکنوں کی غیرقانونی برطرفیوں کے فیصلے سے باز رہنےکا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر ان کے دفاتر کے گھیراؤ اور احتجاج کیا جائے گا۔ جب کہ تاخیر سے تنخواہیں دینے والے میڈیا ہاؤسز کو بھی متنبہ کیا ہے کہ ورکرز کی تنخواہوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔میڈیا ہاؤسز اپنے تنخواہیں فوری اپ ڈیٹ کریں اور ہر ماہ ملازمین کی تنخواہیں یقینی بنائیں ورنہ ان کے خلاف بھی جلد حکمت عملی کا اعلان کریں گے اور بھرپور احتجاج کریں گے میڈیا ہاؤسز کے سامنے دھرنا بھی شامل ہے۔
