اینکر مرید عباس اور خضر حیات کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ملزم عاطف زمان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے میں استغاثہ کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں جبکہ اب صرف تفتیشی افسر (آئی او) پر جرح باقی رہ گئی ہے۔عدالتی ذرائع کے مطابق عینی شاہدین کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم سے برآمد ہونے والے شواہد استغاثہ کے مؤقف کو مضبوط بناتے ہیں۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ پیش کیے گئے شواہد ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔بدھ کے روز کیس سماعت کے لیے مقرر تھا تاہم ملزم کے وکیل کی جانب سے مہلت طلب کیے جانے پر کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ مرید عباس کو تقریباً ساڑھے چھ سال قبل فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی پیروی مقتول کے اہلِ خانہ اور دوستوں کی جانب سے مسلسل کی جا رہی ہے، جو طویل قانونی جدوجہد کے بعد انصاف کے منتظر ہیں۔اہلِ خانہ اور قریبی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالتی کارروائی کو تیز کیا جائے گا اور ٹرائل جلد منطقی انجام تک پہنچے گا تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
