anjanay kis ne arsh e ilahi hiladia

سید سلمان گیلانی….وہ یوں گیا کہ باد صبا یاد آگئی

تحریر: امجد عثمانی۔۔

قابل صد احترام جناب سید سلمان گیلانی بھی”داغ جدائی”دے گئے۔۔۔دربار رسالت مآب سے فیض یاب کیا ہی خوش بخت آدمی تھے۔ ۔رمضان المبارک میں موت اور رقت آمیز جنازہ۔۔۔قابل رشک زندگی کے بعد قابل رشک “سفر آخرت”نے اس خوش بختی پر مہر تصدیق ثبت کردی۔۔۔لاہور کے بہترین شاعر جناب واجد امیر نے درست کہا کہ چشم فلک نے کسی شاعر کے لیے ایسا “خراج عقیدت”کم ہی دیکھا ہوگا۔۔22فروری 2026 اتوار کے روز یعنی 4رمضان المبارک کو لاہور کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ میں 40دن کے دوران جنازے کا یہ دوسرا بڑا اجتماع تھا۔۔دل نشین عالم دین مولانا فضل الرحیم اشرفی کے بعد اس دن انسانوں کا سمندر دل پذیر شاعر  سید سلمان گیلانی کو”الوداع” کہنے امڈ آیا۔۔اتنا جم غفیر کہ ایمان افروز پس منظر کی حامل جامع مسجد حسن کے در و بام چھلک پڑے۔۔۔۔علمائے کرام سے عوام تک،آنسوئوں سے لبریز ایک ہی “آواز خلق” تھی کہ آہ۔۔ شاعر ختم نبوت چلے گئے۔!ایک زمانہ گواہی دے رہا تھا کہ وہ شاعر رسول۔۔شاعر اصحاب رسول اور شاعر آل رسول تھے۔۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔!!کرم کی انتہا دیکھیے کہ پھر مسکراہٹیں بکھیرنے والے سلمان گیلانی یہی “منفرد اعزاز “سینے پر سجائے زیر لب مسکراتے مصطفے ٹائون لاہور کے شہر خاموشاں میں مٹی کی چادر اوڑھ کر ابدی نیند سو گئے۔۔۔۔جنازے کے بعد سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے انچارج برادرم محمد عبداللہ نے گواہی دی کہ میں نے پون گھنٹہ لوگوں کو دیوانہ وار جامعہ اشرفیہ امڈتے دیکھا۔۔۔ساتھ ہی ایک “روایتی جملہ”بھی دہرایا کہ لوگ بھی عجب ہیں کہ دنیا سے جانے کے بعد ہی قدر کرتے ہیں۔۔۔میں نے اس جملے کی نفی کی اور کہا کہ  گیلانی صاحب کے باب میں یہ بات صادق نہیں آتی۔۔لوگوں نے گیلانی صاحب کے لیے زندگی میں بھی “دیدہ و دل” فرش راہ کیے اور بعد از مرگ بھی “پلکیں” بچھادیں۔۔قدر کا حق ادا کردیا۔۔گیلانی صاحب کو “اذن گویائی” ملتا تو خود بھی اپنے “سفر آخرت” کا منظر دیکھ کر جھوم اٹھتے۔”تشکر نامہ” کہتے اور اشکبار ہو جاتے۔۔!!!

بطور صحافی اپنا حال کہوں تو دل ہی مغموم نہیں قلم بھی شدت غم سے نڈھال ہے۔۔ایک جانب ایک دہائی پر محیط خوش گوار یادیں ہیں اور دوسری طرف الفاظ ابھی تک جامد ہیں۔۔گویا”پتھرا” رہ گئے ہوں۔۔کبھی کہیں “آنسو”بن کر گرتے اور قرطاس ابیض کو بھی رلا دیتے ہیں۔۔اپنی بات کہوں تو یہی عرض ہے کہ سید ہو تو سلمان گیلانی ایسا۔۔خوب صورت اور خوب سیرت آدمی۔۔مستند،معتبر اور معتدل شاعر۔۔۔قبولیت اور مقبولیت کے بام عروج پر بھی خاک نشین سا شاعر ۔۔۔صحافتی زبان میں کہوں تو ایک “برانڈ” اور ایک “سلیبریٹی”۔۔۔لوگ جس کی ادائوں پر دل ہار دیتے ہوں ۔۔

سید سلمان گیلانی کیا گئے گویا ایک عہد تمام ہوا۔۔ہاں عقیدتوں کے اس عہد تمام سے وارفتگی کے نئے غنچے کھلیں گے اور لا نبی بعدی کی خوشبو اور پھیلے گی۔۔۔جناب حفیظ جالندھری کے بقول یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔۔دو چار برس کی بات نہیں۔۔گیلانی صاحب کو عقیدہ ختم نبوت سے عقیدت گھٹی میں ملی۔۔انہوں نے اپنے والد گرامی جناب سید امین گیلانی کی نصیحت اور وصیت کو خوب نبھایا اور اکناف عالم میں ختم نبوت کا نغمہ اس شان سے گنگنایا کہ ایک دنیا عش عش کر اٹھی۔۔شاہ جی نے پچاس برس بارگاہ نبوی میں گلہائے عقیدت نچھاور کیے۔۔۔اصحاب رسول اور آل رسول کے قصیدے کہے۔۔صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔۔!!!

ایسی قبولیت اللہ اللہ۔۔بھلا پھر وہ کیوں نہ شاعر ختم نبوت ٹھہرتے۔۔حسن اتفاق دیکھیے کہ میں گیلانی صاحب کی نماز جنازہ کے بعد جامعہ اشرفیہ سے نکلا تو کینال روڈ پر مجاہد ختم نبوت جناب قاری رفیق وجھوی مل گئے۔۔۔میں نے قاری صاحب سے ملتے ہی گیلانی صاحب کی تعزیت کی اور  پھر ہم دونوں غمگین کھڑے ایک دہائی پیچھے کھو گئے۔۔گیلانی صاحب کی یادوں میں آنکھیں بھیگ گئیں۔۔یادش بخیر۔۔یہ 2016کا رمضان المبارک تھا۔۔خاکسار نے لاہور پریس کلب کی تاریخ میں پہلی بار محفل حسن قرات و نعت سجائی تو سید سلمان گیلانی اس محفل کے مہمان خصوصی تھے۔۔ قاری رفیق صاحب نے اس محفل کو سپانسر کیا اور  پریس کلب کے دو ممبران  کو عمرے کے ٹکٹ دیے۔۔اسی تقریب میں کلب کے ایک ملازم کو کویت میں مقیم ہمارے دوست حاجی مقصود نے پورا عمرہ پیکیج دیا۔۔جامعہ اشرفیہ کے ترجمان برادرم حافظ مجیب الرحمان کے توسط سے گیلانی صاحب سے یہ میرا پہلا رابط تھا اور پھر انہوں نے حسب وعدہ  پی ٹی وی کی ایک ریکارڈنگ چھوڑ کر ہماری مجلس قرآن و نعت کو رونق بخشی۔۔گیلانی صاحب نے اپنے ایمان افروز کلام سے نا صرف محفل لوٹ لی بلکہ صحافیوں کے دل بھی جیت لیے۔۔پھر گویا انہیں پریس کلب سے محبت ہوگئی اور میرے بھی مہربان بن گئے۔۔لاہور پریس کلب نے ان کی بے مثال شاعری کے صلے میں انہیں اعزازی ممبرشپ بھی دیدی جو پریس کلب کے لیے بھی ایک اعزاز رہے گا۔۔پھر اگلے دس سال وہ لاہور پریس کلب کے مہمان خصوصی ٹھہرے۔۔رمضان المبارک کی محفل حسن قرآت و نعت ہو۔۔ربیع الاول کا میلاد مشاعرہ ہو یا محرم الحرام کا تقدیسی مشاعرہ ،وہی مشترکہ اور متفقہ صدر مجلس ہوتے۔۔میں ہر تقریب میں انہیں مہمان خصوصی کے ساتھ ساتھ میزبان بھی کہتا کہ وہ پریس کلب کے اعزازی ممبر بھی تھے۔۔2025 میں بھی انہوں نے لاہور پریس کلب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 1500سالہ جشن ولادت میں دوبار شرکت کی ۔۔ایک بار سیرت کانفرنس میں مدینہ میں مقیم نامور اسلامی سکالر اور لاہور پریس کلب کے اعزازی ممبر جناب ڈاکٹر احمد علی سراج کے ساتھ بطور نعت گو شاعر اور دوسری مرتبہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشاعرے میں بطور مہمان خصوصی۔۔۔اسی سال انہوں نے حسب معمول محرم الحرام کے منقبتی مشاعرے کی بھی صدارت کی ۔۔گیلانی صاحب کم یاب تھے لیکن میرے اور  لاہور پریس کلب کے لیے ہمیشہ دستیاب تھے۔۔۔وہ بین الاقوامی شاعر بھی تھے لیکن پریس کلب کے لیے گھر کی مرغی دال برابر۔۔۔ کبھی نہیں ہوا کہ انہیں فون کیا اور انہوں نے کوئی نخرہ دکھایا ہو۔۔۔شارٹ نوٹس اور چائے کے کپ پر بھی تشریف لے آتے ۔۔۔کبھی ایک پائی کی ڈیمانڈ نہیں کی۔۔۔کبھی کسی کے لیے سفارش کی تو اس کے لیے دل کے دروازے کھول دیے۔۔۔۔گزشتہ محرم الحرام میں وہ موسلادھار بارش میں بھی پریس کلب پہنچے اور صرف شاعروں پر مشتمل مشاعرے کی صدارت کی کیونکہ بارش نے سامعین کو روک لیا تھا۔۔۔میں نے لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں گیلانی صاحب کے کلام پر لوگوں کو سر دھنتے دیکھا۔۔۔میں نے بذات خود دس سال کبھی ان کے قدموں میں تو کبھی ان کے پہلو میں بیٹھ کر انہیں سنا وہ زبان سے نہیں دل سے بارگاہ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نذرانہ عقیدت پیش کرتے۔۔۔اصحاب رسول اور آل رسول رضی اللہ عنہم  کی مدح کہتے۔۔۔گیلانی صاحب انتہائی صاحب مطالعہ اور صاحب مشاہدہ شاعر تھے۔۔۔سنجیدہ ،فہیمیدہ اور جہاندیدہ بھی۔۔۔۔ان کے ہر مصرعے کا ایک خاص پس منظر ہوتا۔۔۔۔کہیں سیرت رسول کی جھلک ملتی تو کہیں اصحاب رسول اور آل رسول کے اوصاف کا عکس۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ ان کے منہ سے موتی بکھرتے اور آنکھوں سے جھڑی برستی۔۔۔وہ شاعری ساتھ اپنے زندگی کے کچھ روحانی تجربات بھی بیان کرتے۔۔۔حاضرین مجلس بھی بچوں کی طرح سسکیاں بھرتے۔۔۔۔یہی نہیں الیکٹرانک میڈیا کے بعد گیلانی صاحب میڈیا سٹار بھی بن گئے تھے لیکن انہوں نے پھونک پھونک کر قدم رکھا اور پیسے کے بجائے عزت کمائی۔۔۔۔مکرر عرض ہے کہ گیلانی صاحب میرے مہربان تھے۔۔۔۔2024میں خاکسار  نے لاہور پریس کی نائب صدارت کا الیکشن لڑا تو بڑی محبت سے میری انتخابی مہم کے لیے نظم بھجوائی جبکہ اسی سال محفل حسن قرات و نعت پر میری چھوٹی بیٹی ہادیہ عثمانی کو دیکھ کر گلے لگا لیا۔۔سر پر پیار دیا اور ایک ہزار عیدی بھی دی۔۔۔۔جب 21فروری کی شب برادرم ڈاکٹر مفتی امداد اللہ فرید نے مجھے گیلانی صاحب کے انتقال کی” خبر غم” سنائی تو ہمارے گھر کا ماحول سوگوار ہو گیا اور ہادیہ بھی سر جھکائے آنسو چھپا رہی تھی۔۔۔اسے حوصلہ دیتے میری آواز بھی رندھ گئی۔۔۔۔جناب سید سلمان گیلانی سے “آخری ملاقات” بھی کبھی نہیں بھولے گی اور ان کے ہاتھ کا بوسہ بھی “لب کشائی” کرتا رہے گا۔۔۔شاہ جی سے دس برس میں بیسیوں ملاقاتیں ہیں اور ہر ملاقات کی ایک دلفریب داستان ہے۔۔ ۔۔گیلانی صاحب کا معمول تھا کہ جب بھی ملتے گلے لگاتے اور کبھی کبھار تو کمال محبت سے ماتھا چوم لیتے۔۔کوئی مہینہ پہلے کی بات ہے کہ میں برادرم طاہر عباس کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گیا تو وہ ہارٹ سرجری کے باوجود پون گھنٹہ میرے ساتھ بیٹھے۔۔۔انہوں نے اس طویل نشست میں دل کی اتنی باتیں کیں کہ دل کو قرار آگیا۔۔۔تب بھی ان کا موضوع ختم نبوت ہی تھا اور وہ ہارٹ سرجری کے دوران” واردات قلبی” کی روداد چہک چہک کر سنا رہے تھے۔۔۔کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ “عالم برزخ” دیکھ آیا ہوں۔۔۔وہاں بھی جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت کے شادیانے گونج رہے تھے۔۔۔۔میں نے ان کی صحت کا خیال کرتے ہوئے خود اجازت چاہی اور معانقے کے بعد عقیدت سے ان کا ہاتھ بھی چوم لیا۔۔۔گیلانی صاحب نے بھی حسب معمول مسکراتے ہوئے ڈھیروں دعائیں دیکر رخصت کیا  اور دروازہ بند کر لیا۔۔۔دل ہے کہ ابھی بھی ماننے کو تیار نہیں کہ شاہ جی وہاں چلے گئے ہیں جہاں سے لوٹ کے کوئی نہیں آتا۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں