anjanay kis ne arsh e ilahi hiladia

سما نیوز۔۔۔عمران جونئیر کو دوش کیوں ؟؟؟

تحریر: امجد عثمانی۔۔۔

برادرم عمران جونئیر کی عیادت کے لیے فون کیا تو تیمارداری ساتھ یہ بھی پوچھ لیا کہ سما نیوز کا ہنگامہ کیا ہے؟بولے کچھ بھی نہیں ۔۔میں نے صرف  سما نیوز میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کی خبر بریک کی  ۔۔پھر اس خبر کی بنیاد پر صحافی تنظیمیں سرگرم ہو گئیں  اور یار لوگ مجھے دوش دینے لگے ۔۔۔سما نیوز میں مبینہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔۔میڈیا کی تاریخ میں ایسا آڈٹ شاید پہلی مرتبہ پلان کیا گیا ہوگا ۔۔۔ہم نے تو یہی سنا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ مالی ضابطگیوں کا ہوتا ہے  لیکن عمران جونئیر کے مطابق سما نیوز میں یہ تھرڈ پارٹی آڈٹ ملازمین کی  جانچ کے لیے پلان ہوا ۔۔۔یعنی آڈیٹر ٹیم نئے سرے سے ملازمین کے انٹرویوز کو میدان میں اتری کہ کون اہل ۔۔کون نااہل ہے۔۔؟؟اگر واقعی ایسا ہوا تو یہ بلاشبہ سما نیوز کیخلاف سوچی سمجھی سازش ہے کہ میڈیا کی تاریخ میں کبھی کسی میڈیا ہائوس کے صحافیوں کا اس طرح آڈٹ نہیں دیکھا گیا۔۔۔میڈیا ہائوس یونیورسٹی نہیں ہوتے اور نہ یہ ایم فل یا پی ایچ ڈی مقالے کا دفاع کہ ایکسٹرنل سپروائزرزبھی امتحان لیں۔۔ بھلا کسی ایم ڈی۔۔۔ایچ آر ہیڈ اور ایڈمن افسر کو کیا علم کہ صحافت کیا ہے؟؟؟صحافیوں کے ہمیشہ انٹرویوز ہوئے ہیں اور وہ بانی ٹیم کے متعلقہ شعبوں کے سربراہوں نے لیے ۔۔مثال کے طور اخبارات کے ایڈیٹرز نے نیوز ایڈیٹرز ۔۔سب ایڈیٹرز کا انتخاب کیا۔۔چیف رپورٹر کی معاونت سے رپورٹنگ ٹیم منتخب کی ۔۔اسی طرح ٹی وی چینلز میں ڈائیریکٹر نیوز اور کنٹرولر نیوز ۔۔بیوروچیف اور ڈائریکٹر پروگرامز نے اپنے اپنے شعبے کی ٹیم کا چنائو کیا ۔۔میڈیا میں انٹرویو بھی کوئی لمبی چوڑی کارروائی نہیں ہوتی ۔۔ہمارے سنئیر صحافی دوست نوید بخاری مرحوم کہا کرتے تھے کہ ایک خبر سے فیصلہ ہو جاتا ہے کہ رپورٹر اور سب ایڈیٹر کتنے پانی میں ہے؟ رپورٹر سے کہیں کہ خبر بنادے اور سب ایڈیٹر سے کہیں ایڈٹ کردے ۔۔۔۔امتحان تمام ہوا۔۔۔۔جناب ضیا شاہد تو نوکری کی درخواست پر امیدوار کو جانچ لیتے تھے ۔۔۔۔جناب تنویر عباس نقوی کا تو انٹرویو کا پیمانہ ہی الگ تھا ۔۔ایک بڑے اخبار کے میگزین کے لیے ایک شاعر دوست کی سفارش کی اور کہا کہ ان کا انٹرویو کر لیجیے ۔۔۔۔کہنے لگے انہیں کہیں کل جوائن کرلیں شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز نہیں کیا کرتے ۔۔یہ جملہ تنویر عباس نقوی ہی کہہ سکتے تھے ۔۔۔۔کبھی ضیا شاہد ایسے لوگ ایڈیٹرز ، تنویر عباس اور نوید بخاری ایسے لوگ ان کی ٹیم ۔۔۔۔پروفیشنل ازم کا وہ زمانہ گیا اب خوشامدی مشیروں کی دنیا ہے ۔۔۔شکرگڑھ سے چار مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی ٹھہرے مولانا غیاث الدین ایک بات بڑے اہتمام سے کیا کرتے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ خلفائے ثلاثہ اور آپ کے دور میں مسائل کے تناسب میں فرق کیوں ؟شیر خدا نے فرمایا کہ ان کا مشیر میں اور میرے مشیر آپ لوگ ہیں ۔۔۔۔شومئی قسمت کہ پھر” ہمارے حضرت” کو بھی ان کے مشیر وں نے کہیں کا نہ چھوڑا ۔۔۔۔سما نیوز میں صحافیوں کا مبینہ تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کسی شہ دماغ مشیر کی پھلجڑی لگتی ہے ۔۔۔۔عمران جونئیر کو کیا دوش کہ انہوں نے تو صرف اس آڈٹ کی خبر دی اور یہ خبر بھی انہوں نے اندر سے لیکر دی ہوگی کہ وہ میڈیا کی” آواز دروں” ہیں۔۔۔مکرر عرض ہے کہ جناب علیم خان اپنی آستین میں ضرور جھانکیں ۔۔۔انکوائری کرائیں کہ انوکھا تھرڈ پارٹی آڈٹ کس کی واردات ہے۔۔۔۔لگتا ہے کہیں نہ  کہیں کوئی” گھس بیٹھیا” ہے جو پھلتے پھولتے  سما نیوز کی روزنامہ وقت کی طرح کونپلیں کاٹنا چاہتا ہے ۔۔۔۔خدا نہ کرے ایسا ہو۔۔۔۔( امجد عثمانی)۔۔۔!!!!

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں