کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی پیریاڈیکلز کمیٹی کے تحت گزشتہ روز آرمی سروسز میس میں ” جرائد کا ماضی ، حال ، مستقبل اور جدید تقاضے ”کے عنوان سے ظہرانے کا اہتمام کیا گیا،جس میں جرائد کو درپیش مسائل اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ تقریب کی صدارت سی پی این ای پیریاڈیکل کمیٹی کی چیئرپرسن منزہ سہام نے کی جبکہ اس موقع پر سی پی این ای کے اراکین کے ساتھ صحافی،وکلاء، انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور جرائد کے مدیران بھی موجود تھے۔اجلاس کے آغاز پر چیئرپرسن سی پی این ای پیریاڈیکل کمیٹی منزہ سہام نے معزز مہمانوں کی شرکت کا خیر مقدم کیا اور بالخصوص سی پی این ای کے صدر کاظم خان، سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، اعجاز الحق اور قاضی اسد عابد سے جرائد کے لیے بھرپورسپورٹ پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جرائد نے تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا ہے لیکن موجودہ دور میں انہیں اپنی بقاء کے لیے متعدد سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جن میں اشتہارات کی عدم دستیابی کے ساتھ ہاکرز کا ادارہ ختم ہونا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے جس سے قارئین تک جرائد کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اعجاز الحق نے کہا کہ جرائد کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرناہوگا اور قارئین کے ذہن کا مطالعہ کرکے کانیٹنٹ کو ریسرچ بیسڈ بنانا ہوگا جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے کیا ہے۔سیکریٹری جنرل سی پی این ای غلام نبی چانڈیو نے کہا کہ ہماری تنظیم نے ہمیشہ جرائد کو اپنے شانہ بشانہ رکھا ہے اورنہ صرف ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی بلکہ ان کے مسائل پر بات کرنے کے لیے پیریاڈیکل کمیٹی کا فورم بھی ہمیشہ تشکیل دیاہے۔ وسعت اللہ خان نے اعجاز الحق کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے نئی جنریشن کو آن بورڈ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایڈووکیٹ افتخار ملک نے کہا کہ جرائد کے معاشی استحکام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)سے رجوع کیا جائے۔ مظہر عباس نے کہا کہ جرائد کو مستحکم کرنے کے لیے پبلشرز کو اپنی مطبوعات میں آمدنی کو ری انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ قاضی اسد عابد نے کہا کہ ہم نے اپنے میگزین کی اشاعت کے لیے ہمیشہ نجی شعبے کے اشتہارات پر انحصار کیا ہے ، اگر حکومت جرائد کو بھی سرکاری اشتہارات کے لیے میڈیا لسٹ میں شامل کرلے تو یہ ایک خوش آئند امر ہوگا۔ غزالہ رشید نے کہا کہ معروضی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے جرائد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ مقصود یوسفی نے کہا کہ جرائد نے ہر دور میں مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے ہیں اور امید ہے کہ موجودہ صورت حال میں بھی اپنی شناخت قائم رکھیں گے۔ ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ جرائد کے ارتقاء کے لیے قارئین میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا ہوگا جو کانٹینٹ بہتر بنانے سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے جرائد کے لیے حکومتی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے انگریزی زبان کے بعض معروف جرائد محض حکومت کی ناقص پالیسیوں کا شکار ہوئے۔ اقبال بلوچ نے کہا کہ جرائد اے آئی سے استفادہ کرکے بھی اپنے کانٹینٹ کو بہتر بنانے میں مدد لے سکتے ہیں۔ امتل صبور نے کہا کہ جرائد کے قارئین کی کمی نہیں ہے تاہم نیوز پرنٹ کی قیمتیں بڑھنے سے اس شعبے کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ محمود عالم خالد نے کہا کہ ڈاک کے اخراجات بڑھ جانے سے بھی جرائد کی قارئین تک ترسیل معاشی طور پر بری طرح متاثر ہوئی جس پر حکومت کو مراعاتی پیکج کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ ڈی جی پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کراچی ارم تنویر نے جرائد سے متعلق اجلاس میں شرکت کو اپنا خوشگوار تجربہ قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے قبل علم نہیں تھا کہ پاکستان کی صحافت میں جرائد اتنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس تقریب میں عبدالرحمان منگریو، شاہ محمود سید،پروین سید ، سائرہ غلام نبی، ریحانہ علی احمد،واصفہ احمد ،سیمارضا اور دیگر نے شرکت کی۔
جرائد کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی، سی پی این ای سمینارسے مقررین کا خطاب۔۔
Facebook Comments
