زرد صحافت کے بعد گھس بیٹھی مالشی صحافت 43

زرد صحافت کے بعد گھس بیٹھی مالشی صحافت

تحریر: انور حسین سمراء (تحقیقاتی صحافی)۔
دو دہائیوں سے صحافت کے اعلیٰ و عظیم پیشہ سے وابستہ ہوں جس طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں انحطاط ایا ہے ایسے ہی صحافت اقتدار کے ایوانوں سے عام گلی محلہ میں رول گئی ہے۔ اب بات خوشامد و جی حضوری سے نکل کر مالش و سروسز فراہمی تک پہنچ چکی ہے۔مارکیٹ میں ایسے کئی گھس بیٹھیے مالشی صحافی متعارف ہوچکے جو اشرافیہ کو کھانے کھلانے،مہخانےکی سروسز سے لیکر جسمانی سروسز فراہم کرنے اور سوشل میڈیا طوفان برپا کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔سروسز لینے والی اشرافیہ کی اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل چکا ہے۔ کچھ لوگ تو ایسے ایونٹس کو اپنے ڈرائنگ روم و بیڈ رومز کی زینت بھی بنانے میں عار محسوس نہیں کرتے جو انتہائی افسوسناک ہے۔
چند روز قبل ایک بابو کے دفتر ملنے گیا، اس نے ویلکم کیا چائے منگوائی،اس دوران نائب قاصد نے درواز کھولا سر یہ فلاں—- صاحب مٹھائی دے گئے ہیں صاحب نے اشارہ کیا ریٹائرنگ روم میں رکھ دو۔چند منٹس کے بعد نائب قاصد نے پھر سے دروازہ کھولا اک خواجہ سرا سٹائل کے صاحب نمودار ہوئے، بابو نے بیٹھنے کا کہا، بیٹھتے ہی موصوف نے پالش نکالی اور نوکری شروع، چند لمحات کے بعد عرض کی کہ میں علاقے میں گیا تھا اور بچوں کےلیے اعلیٰ نسل کی مٹھائی لایا تھا وہ میں نے جناب کے نائب قاصد کو دی ہے۔افسر موصوف چونک گئے کیا کہہ رہے ہیں اپ دو تین دفعہ سوال کیا اور پھر کہا کہ میں سمجھا کہ ہمارے وائس چیرمین لائے ہیں وہ اپ کے ہم نام ہیں۔مالشی صاحب کھسیانی مسکراہٹ دیتے ہوئے بولے نہیں سر میں لایا ہوں، "چلو اچھا" بابو نے سر ہلایا۔ نہ چائے پوچھی نہ پانی!
مالیشے کے جانے کے بعد بابو میرے سے مخاطب ہوئے اور یقین دہانی کرانے لگے کہ یہ بھی اپ کا پیٹی بھائی ہے میں نے منفی میں جواب دیا تو کہنے لگے کالم بھی لکھتا ہے چنگی روٹی وٹی بھی افر کرتا ہے۔ بیورکریسی کے سرکل میں بہت "ان" ہے۔ میں نے سوال کیا دیگر سروسز بھی تو وہ مسکرا دیئے۔
میں شاید حساس ہوں،صحافت کو ایک عظیم پیشہ سمجھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں اپنے اور اپنے چاہنے والوں سے قلم و زبان سے انصاف کروں، رات اس واقعے کے کرب سے سو نہیں سکا اور صبح سویرے لکھنے بیٹھ گیا۔
میری ان گھس بیٹھے مالشیوں سے دست بدست التجا ہے کہ اس عظیم الشان پیشہ کے نام پر سروسز فراہم نہ کریں بلکہ اپنی علحیدہ شاخت قائم کریں کیونکہ صحافی پہلے ہی بہت بدنام ہوچکے۔اگر اپ کی یا اپ کے مینٹورز و ہینڈلرز کی دل آزاری ہو تو معذرت خواہ ہوں! (انور حسین سمراء،تحقیقاتی صحافی)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں