تحریر: ملک سلمان۔۔۔
گزشتہ روز چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر کے ساتھ اسلام آباد میں کی جانی والی صحافت گردی کوئی نیا واقع نہیں ہے صحافیوں کی طرف سے اس طرح کی بیہودگی اور زورزبردستی عمومی رویہ بن چکا ہے۔ کسی بھی صحافی کو یہ حق نہیں کہ وہ ذاتی موبائل پر کسی بھی سرکاری غیر سرکاری شخص کا زبردستی انٹرویو کرے یا فوٹو ویڈیو شوٹ کرے۔ اگر کوئی سرکاری ملازم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتا ہے تو پھر آزادی صحافت کا رونا نہ رویا جائے۔
سائبر کرائم ایکٹ کے تحت تصویر، آڈیو یا ویڈیو متعلقہ شخص کی اجازت کے بغیر شائع/پوسٹ کرنے والے کو ایک سال تک قید اور دس لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح مذہبی منافرت اور ملکی مفاد کے خلاف کوئی مواد شائع کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے والے کو پانچ کروڑ تک جرمانہ اور 14سال کیلئے سلاخوں کے پیچھے بھیجا جا سکتا ہے۔ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کسی بھی خلاف ورزی کے مرتکب شخص کو بغیر وارنٹ کمپیوٹر، لیب ٹاپ، موبائل فون اور کیمرہ وغیرہ تحویل میں لیکر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
سائبرجرائم کی روک تھام کے لیے قوانین تو 2016 سے موجود ہیں لیکن ان قوانین پر عملداری اور شہریوں کی دادرسی کیلئے سسٹم بہت سلو تھا۔
علی ناصر رضوی کی بطور ایڈیشنل آئی جی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی تقرری کے بعد سے پہلا موقع ہے کہ ایڈیشنل آئی جی روزانہ اور باقاعدگی سے ناصرف کارگردگی رپورٹس لے رہے بلکہ ڈویژنل دفاتر کا وزٹ بھی شروع کردیا ہے، علی ناصر رضوی جیسے متحرک آفیسر کی تعیناتی سے یقینی تبدیلی اور بہتری کی امید کی جارہی ہے کہ ناصرف سائبر کرائم میں کمی آئی گی بلکہ ریاستی اداروں اور معزز شہریوں کی کردار کشی کرنے والے غلیظ عناصر کے خلاف بھی مؤثر کاروائی کی جائی گی۔
مختلف ریسٹورنٹس اور شاپنگ مال کے باہر کیمرے اٹھائے سرکاری افسران اور ڈرائیورز پر چڑھائی کرنا کہ تم یہاں شاپنگ کرنے کیوں آئے ہو؟ تم سرکاری گاڑی پر کھانا کیسے کھانے آسکتے ہو۔ عجیب شرمناک مناظر ہیں کہ رپورٹر اور اینکر مائک اٹھائے وارڈن بن کر گاڑیاں روک کر ان سے ڈرائیونگ لائسنس مانگ رہا ہے تو کہیں بائک اور گاڑی کی چابی نکال رہا ہے کہ آپ چالان کروائے بن نہیں جاسکتے۔
یہ سب غیر قانونی اورغیر اخلاقی مناظر دیکھ کر میں شدید شرمندہ ہوں کہ ہم نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو نفرت کا استعارہ اور گالی بنا کر رکھ دیا ہے۔کسی بھی صحافی یا شہری کو ہرگز یہ اختیار نہیں کہ وہ خود سے ٹریفک وارڈن بن کر گاڑیاں روکتا پھرے، پولیس بن کر گاڑیوں کی چیکنگ کرے اور پھر خود ہی جج بن کر فیصلہ دے دے کہ تمہارا چالان ہو گا، تمہاری گاڑی بند ہونی چاہئے۔ کیمرے کا اس سے بدترین استعمال کیا ہوگا کہ سرکاری آفیسر پر گن پوائنٹ کی طرح کیمرہ تان کر اس کی تذلیل کریں کہ یہ میرے پیسوں کی گاڑی ہے اس کا پیٹرول میں نے ڈلوایا ہے۔ سب سے زیادہ انکم ٹیکس سرکاری ملازمین ہی دے رہے ہیں۔
جن صحافیوں کو ادارہ گاڑی دیتا ہے کبھی کسی کو روکا کہ تم اس پر کھانا نہیں کھانے جاسکتے، شاپنگ نہیں کرسکتے، اپنے بچوں کو سکول سے پک نہیں کرسکتے یا پھر کسی جگہ تفریح کیلئے نہیں جاسکتے۔
ہرگز ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہئے، میڈیا سمیت بینک اور دیگر کارپوریٹ اداروں میں گاڑی اور فکس پٹرول دیا جاتا ہے کہ یہ ادارے کی طرف سے ہے باقی ایکسٹرا تمہارا سردرد ہے۔اسی طرح سرکاری گاڑیوں کیلئے بھی آنے جانے کا فکس پٹرول دیا جاتا ہے اگر وہ کھانا کھانے، بچوں کو پک کرنے یا تفریح کیلئے جاتے ہیں تو اپنا انتظام خود کرتے ہیں۔ حکومت جتنا پٹرول دیتی ہے اس سے افسران کا گذارہ بھی ممکن نہیں انکو پاکٹ سے پٹرول ڈلوا کر مہینہ پورا کرنا پڑتا ہے۔(بعض سنیئر افسران اور اہم سیٹوں پر تعنیات افسران کا اضافی گاڑیوں کا استعمال ضرور اختیارات سے تجاوز ہے)۔حکومت سرکاری ملازمین کو جتنی تنخواہ دیتی ہے اس کے ساتھ گزر بسر کرنے والوں کو سرکاری رہائش اور گھر ملنا انکا حق ہے۔ اتنی تھوڑی تنخواہ کے ساتھ کوئی ذاتی گاڑی کیسے لے سکتا ہے؟ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ایک آفیسر کو اگر حکومت نے سرکاری گاڑی دی ہے تو جب وہ شاپنگ یا کھانے کیلئے باہر جائے تو رکشہ یا ٹیکسی کروا کر جائے؟
پرائیویٹ یاسرکاری گاڑیوں کو روک کر زبردستی انٹرویو کرنا کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت ہے اور قابل گرفت جرم ہے۔ رجسٹرڈ ٹی وی چینلز کے خلاف پیمرا میں شکایت درج کروا کے چینل پر جرمانہ عائد کروایا جاسکتا ہے۔جہاں تک سوشل میڈیا چینلز کی بات ہے گھر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہر کسی کا حق ہے لیکن جب تک یہ چینل کسی حکومتی اتھارٹی سے رجسٹرڈ نہیں ہو جاتے کوئی بھی سوشل میڈیا چینل نہ تو پریس کارڈ جاری کرسکتا ہے اور نہ ہی ”میڈیا لوگو“ استعمال کرسکتا ہے۔ سوشل میڈیا ٹی وی چینلز کے”پریس کارڈز“ اور ”چینل لوگو“ کااستعمال غیرقانونی ہے۔
صحافتی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ دوسروں کی آزادی سلب کرلیں اور آزادی صحافت کی آڑ میں معززین کو بدنام کرنے کے درپے ہوجائیں۔ بحیثیت محب وطن شہری ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ریاستی اداروں اور معزز شخصیات کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے ایسے تمام شر پسندعناصر کی فوری شکایت درج کروائیں تا کہ سوشل میڈیا سے ان دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے جو اپنی ذہنی غلاظت کے ہاتھوں مجبور ہوکر شرفاء کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں اور منافرت پھیلارہے ہیں۔( ملک سلمان)۔۔۔
42