یہ المیہ ہر بار کا ہے 54

یہ المیہ ہر بار کا ہے

تحریر: سید بدرسعید۔۔
سینئر صحافی شہزادہ عرفان کے جنازے کے بعد ایک بار پھر اسی اداسی کا شکار تھا جو ہر بار در آتی ہے ۔ ہر بار خود کو سمجھاتا ہوں ۔ یہ دنیا ایسی ہی ہے یا پھر ہم نے اسے ایسا بنا دیا ہے ۔ شہر کی زندگی جتنی تیز ہے اس سے زیادہ بے حسی ہوتی جا رہی ہے ۔ جنازہ گیارہ بجے تھا ۔ یہ صبح کی شفٹ والوں کی ڈیوٹی کا وقت تھا تو شام کی شفٹ والے ابھی جاگنے کی کوششوں میں تھے ۔ یہ بھرم بھی کافی حد تک ختم ہو گیا کہ رپورٹرز کے تعلقات زیادہ ہوتے ہیں ۔ شہزادہ عرفان دی نیوز کے سابق رپورٹر تھے ۔ پریس کلب کے کونسل ممبر بھی۔ فیلو شپ آف جرنلسٹ کے روح رواں فواد بشارت صاحب نے گروپوں میں گوگل میپ کی لوکیشن بھیج دی تو سہولت ہو گئی ۔ وہ دو چار ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے ۔ علی ساہی جنازے کے فورا بعد بیپر دے رہے تھے ۔ انہیں دیکھ کر احساس ہوا کہ ڈیوٹی میں بھی اپنے قبیلے کے دکھ میں شامل ہوا جا سکتا ہے ۔ جواد رضوی سمیت چند صحافی موجود تھے ۔ جنازے کے بعد پریس کلب آ کر بیٹھ گیا ۔ دکھ کا احساس تھا اور خیالات کی بھرمار ۔ اسی کیفیت میں نوائے وقت کے پرانے ساتھی طارق ستی صاحب کے سامنے اظہار کر بیٹھا ۔ اب احساس ہو رہا ہے کہ لہجہ کچھ تلخ ہو گیا تھا ۔ انہیں کہا آپ روز کلب آتے ہیں یہ اچھی بات ہے لیکن اپنے محلے میں لازمی سلام دعا رکھیں ۔ ہمارے جنازوں میں وہی لوگ ہوں گے یا پھر جس ادارے سے تعلق ہے اس کے چند ایک پرانے ساتھی آ جائیں گے ۔
ہم اپنے گھر والوں سے زیادہ وقت اپنے دفتر اور فیلڈ میں دوستوں کو دیتے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ زیادہ تر لوگ ہماری تدفین کے وقت مصروف ہوں گے ۔ ہمارے بچوں کو گلے لگا کر دلاسا دینے کے لیے یا تو خاندان برادری والے ہوں گے یا اہل محلہ ہوں گے ۔
یہ المیہ نہیں تو کیا ہے ۔
ہم ایسی فیلڈ سے ہیں جہاں ہماری موت کے بعد نہ دفتر کی شفٹ بند ہو سکتی ہے اور نا یار دوستوں کو چھٹی مل سکتی ہے ۔ سینئر صحافی شہاب انصاری کے جنازے پر بھی یہی صورت حال تھی اور دیگر سینئرز کے جنازے بھی مختلف نہیں ہوتے۔ پھر متحرک اور ہر دل عزیز رانا دلشاد کی والدہ فوت ہوئیں تو معلوم ہوا ،ہمارے قبیلے میں تھانیدار خود فوت ہو یا اس کے والدین میں کوئی فوت ہو حالات ایک سے رہتے ہیں ۔
ہم کہتے ہیں پریس کلب ہمارا دوسرا گھر ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہم اپنے اس گھر کے مکینوں کے مسائل اور دکھوں سے لاعلم رہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں صحافت ہمارا قبیلہ ہے لیکن سچ تو یہی ہے کہ ہم مشکل وقت میں اپنے قبیلے والوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہمارے اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور احساس گھٹتا جا رہا ہے۔
یقینا ہر شخص کی مجبوری ہو گی ، فیلڈ کے حالات سخت ہیں ۔ چینل میں پوائنٹ سے ادھر سے ادھر ہونا مشکل ہے لیکن یہ روایات بھی تو ہم نے خود ہی ڈالی ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہم نہیں ہوں گے تو کام کیسے چلے گا لیکن جب ہم میں سے کوئی نکال دیا جائے یا مر جائے تو کام اسی وقت بانٹ دیا جاتا ہے ۔ کام چلتا رہتا ہے ۔ جرنلسٹ سپورٹ فنڈ موجود ہے ۔ گروپ انشورنس ہوتی ہے لیکن پیسے ہر مسئلہ کا حل نہیں ہیں ۔ کبھی کبھار فوت ہونے والے کے اہل خانہ کو ایک ایسا کندھا درکار ہوتا ہے جو تسلی دے رہا ہو ۔اہل محلہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جس نے اک عمر اس دشت میں آبلہ پا گزاری اس کے ساتھی کتنے تھے؟ اللہ ہم سب کے لیے آسانیاں فرمائے آمین ۔۔ ( سید بدر سعید) ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں