wali babar qatal case mein phir chlaan jama

ولی بابرقتل کیس میں پھر چالان جمع۔۔

جیو نیوز کے صحافی ولی خان بابر قتل کیس میں گرفتار ملزم ایس ایم کامران عرف ذیشان کے خلاف چالان جمع کرادیا گیا۔ملزم کے خلاف دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ کیس کا چالان جمع کرایا گیا ہے۔چالان کے متن کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کندھ کوٹ کو ملزم کی گرفتاری سے متعلق اطلاعی رپورٹ بھیج دی۔انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کندھ کوٹ نے ملزم کو ولی بابر قتل کیس میں دی گئی سزا پر عمل درآمد کا کہا ہے۔ کندھ کوٹ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو ولی خان بابر قتل کیس میں سزائے موت سنائی تھی۔ واضح رہے کہ  15 جون 2020 کو پولیس نے ولی خان بابر کے اصل قاتل کو گرفتار کیا تھا ۔کراچی پولیس کے چیف غلام نبی میمن کا کہنا تھا  کہ جیو نیوز کے صحافی ولی بابر کے اصل قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم نائن زیرو پر بھی رہا ہے، ملزم نے اب تک چار افراد کے قتل کے بارے میں بتایا ہے۔کراچی میں پولیس چیف غلام نبی میمن اور وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے  مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران  کہا تھا  کہ ولی بابر جیو نیوز کے کرائم رپورٹر تھے، ولی بابر کیس کے چار گواہوں کو مختلف اوقات میں قتل کیا گیا۔غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ کیس کے 8 ملزمان تھے، ایک ملزم لیاقت علی ایک سال بعد مقابلے میں مارا گیا، ولی بابر کو سپر مارکیٹ تھانے کی حدود میں نشانہ بنایا گیا، ولی بابرکے قتل کے لیے 3 موٹرسائیکلوں اور 2 موٹر کار کی ٹیمیں بنائی گئیں۔ پولیس چیف نے کہا کہ شیخ کامران کی موٹرسائیکل خراب ہوگئی اور اس کا ساتھی فرار ہوگیا، کامران نے ولی بابر پر فائرنگ کی اور پیدل موٹرسائیکل لےکر فرار ہوا۔ان کا کہنا تھا  کہ ملزم کامران اس دوران اپنے ٹھکانے بدلتا رہا ہے، فیصل موٹا اس کیس کا ماسٹر مائنڈ تھا، ملزمان کو ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ سے بھی ہدایت ملتی تھی۔پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ملزمان کو انیس الرحمان اور عامر کی جانب سے ہدایت ملتی تھی، ملزم کامران کی رہائش کا انتظام ملزم کے بھائی احسن نے کیا۔غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ ملزم کامران ہوشیار شوٹر تھا اور محتاط ہوکر کام کرتا تھا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں