media par jaarhaana hikmat amli apnane ka faisla

توہین آمیزمواد نہ ہٹانے پر وزیراعظم سے جواب طلبی۔۔

لاہورہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پرتوہین آمیزمواد نہ ہٹائے جانے کیخلاف درخواست پر وزیراعظم سے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس نے جواب آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی. عدالت نے اس سلسلے میں کابینہ اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں اور یوٹیوب اورفیس بک سمیت سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کاریکارڈ پیش کرنے کا بھی حکم دیا. عدالت عالیہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کا معاملہ آئندہ کابینہ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے توہین آمیز مواد ہٹانے کیلئے درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، ڈائریکٹر سائبر کرائم ڈی آئی جی عبدالرب اور دیگر افسران پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے اور وفاقی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم بتائیں کہ توہین آمیز مواد مستقل طور پر ہٹانے کے لیے کیا کررہے ہیں؟ چیف جسٹس قاسم خان نے ہدایت کی کہ وزیراعظم کا جواب آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کریں. ۔ یہ بھی ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کا معاملہ آئندہ کابینہ کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے اور وزیر اعظم اگر جواب دینا چاہیں تو عدالت کو آگاہ کیا جائے. چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کیا کہ نہ یوٹیوب چینلز کی کوئی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور نہ فیس بک کی، یو ٹیوب چینلز کس قانون کے تحت بن رہے ہیں؟ ان کو رجسٹرڈ کرنے کا کوئی طریقہ کار ہے۔جن لوگوں کیخلاف کارروائی کی ان میں سے کتنوں کو سزا ہوئی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان میں سے صرف ایک کیس میں سزا ہوئی،2020 میں سات انکوائریاں شروع کی گئیں جو چل رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا میڈیا میں مذہبی منافرت پھیلانے کیلئے فنڈنگ کی بات سامنے آرہی ہے، اس کے اثرات بھی نظر آتے ہیں، لگتا ہے ان کے پاس گستاخانہ مواد بلاک کرنے کیلئے ٹیکنالوجی نہیں، وکیل نے کہا ان کی پوری ٹیم ایسا مواد ہٹانے کیلئے موجود ہے،یہ خود کیوں ایسے مواد کو نہیں ہٹا رہے، انڈیا نے دو ماہ تک فیس بک بند رکھی جس پر فیس بک نے انڈیا آفس بنایا، چیف جسٹس نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سے پوچھا آپ لوگوں کے پاس ایسا مواد ہٹانے کی ٹیکنالوجی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ایسی ٹیکنالوجی ہمارے پاس نہیں ہے چیف جسٹس نے کہا اس معاملے پر وزیراعظم کو سامنے آنا چاہئیے، کیا آپ چاہتے ہیں ملک کے گلی کوچوں میں لڑائی شروع ہو جائے .  مجھے وزیر اعظم کا بیان چاہئے ، ملک کی حدود میں نظریہِ پاکستان اور اسلام کیخلاف مواد ناقابل برداشت ہے، چیف جسٹس نے کہا پورا ملک اس عدالت کی اس کارروائی کو دیکھ رہا ہے ، اگر آپ لوگوں نے کچھ نہ کیا تو عوام خود قانون کے ہاتھ میں لے لیں گے، کیبنٹ اجلاس میں یہ ایشو لے جائیں پتہ چلے گا کون سا وزیر کیا سوچتا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں