سولہ سال بعد ایڈیٹر ڈان کی تبدیلی۔۔ظفرعباس کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ۔۔۔ 12

سولہ سال بعد ایڈیٹر ڈان کی تبدیلی۔۔ظفرعباس کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ۔۔۔

روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کا 16 سال بعد عہدے سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ، رواں سال کے آخر میں ریٹائر ہوں گے۔ پاکستان کے ممتاز انگریزی روزنامے ڈان کے ایڈیٹر اور سینئر صحافی ظفر عباس 16 سال تک اخبار کی ادارت کے فرائض انجام دینے کے بعد رواں سال 2026 کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ہیں۔ ان کی متوقع ریٹائرمنٹ کو پاکستان کی صحافتی دنیا میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔جرنلزم پاکستان کے مطابق ظفرعباس رواں سال کے آخر میں ریٹائر ہوں گے، جبکہ ان کی جگہ نئے ایڈیٹر کی تقرری کے لیے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزنامہ دی نیوز کے موجودہ ایڈیٹر اور ڈان سے سابقہ وابستگی رکھنے والے سینئر صحافی بہزاد عالم اس عہدے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، تاہم جانشین کی باضابطہ تقرری کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ظفر عباس نے 1981 میں کراچی کے اخبار دی اسٹار سے بطور جونیئر رپورٹر اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ بعدازاں 1988 میں معروف جریدے ہیرالڈ سے وابستہ ہوئے، جبکہ 1992 میں بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے پاکستان میں نمائندگی کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ 2006 میں روزنامہ ڈان سے وابستہ ہوئے اور اکتوبر 2010 میں اخبار کے ایڈیٹر مقرر کیے گئے۔
ان کے 16 سالہ دورِ ادارت میں ڈان کو متعدد سیاسی، مالی اور ادارہ جاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سب سے نمایاں اکتوبر 2016 کا ڈان لیکس تنازع تھا، جب اخبار میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان قومی سلامتی سے متعلق ایک اجلاس کی خبر شائع ہونے کے بعد ملک میں شدید سیاسی اور ادارہ جاتی کشیدگی پیدا ہوئی۔اس تنازع کے نتیجے میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو عہدے سے ہٹایا گیا، جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ بعدازاں مئی 2017 میں حکومت اور فوج نے معاملہ طے پانے کا اعلان کیا۔ظفر عباس کے دور میں ڈان میڈیا گروپ کو سرکاری اشتہارات کی بندش اور مالی دباؤ جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اپریل 2025 میں صحافتی حقوق کی تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے ڈان گروپ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی جانب سے اکتوبر 2024 سے اشتہارات روکے گئے تھے۔ تنظیم نے اس اقدام کو آزاد ادارتی پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔تاہم وفاقی حکومت نے اشتہارات کی مکمل بندش کے مؤقف سے اختلاف کیا۔ دسمبر 2025 میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ڈان میڈیا گروپ کو گزشتہ 13 ماہ کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تقریباً 86 کروڑ روپے کے اشتہارات ملے تھے۔ظفر عباس کو صحافتی آزادی کے لیے خدمات کے اعتراف میں 2019 میں بین الاقوامی گوین ایفل پریس فریڈم ایوارڈ (Gwen Ifill Press Freedom Award) سے بھی نوازا گیا۔ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم نیٹ ورک ایڈیٹرز فار سیفٹی کی سربراہی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
مئی 2026 میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ایک صحافتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظفر عباس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ صحافیوں کی بنیادی ذمہ داری عوامی مفاد کا تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی کا دفاع اور حکومتی اقدامات کا احتساب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے باوجود تحقیقاتی صحافت کو ترجیح دینی چاہیے۔ ظفر عباس کی متوقع سبکدوشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں اخبارات کو مالی مشکلات، ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات، سرکاری اشتہارات کی پالیسی اور آزادیٔ صحافت سے متعلق مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ڈان کی ادارتی قیادت میں تبدیلی نہ صرف اخبار بلکہ ملک کی انگریزی صحافت کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں ظفر عباس کی ریٹائرمنٹ اور اشتہارات کے تنازع کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں