سیانے کہتے ہیں سوشل میڈیا کی ہرخبر قابل اعتبار نہیں ہوتی، لیکن سندھی نیوزچینل کے ٹی این کے ذمہ داران کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے اٹھاکر ایک ایسی خبر چلادی جس سے سارا دن ان کی جگ ہنسائی ہوتی رہی۔۔ اطلاعات کے مطابق سکھر پولیس کے اہلکار شاہ رخ کلہوڑو سے متعلق سوشل میڈیاپر کسی نے خبر چلائی کہ وہ سی ایس ایس امتحان پاس کرکے اے ایس پی بن گیا ہے، کے ٹی این سکھر کے بیوروچیف نے بریکنگ کے چکر میں بغیر تصدیق کے یہ خبر چلادی،ابھی یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کے ٹی این کی بریکنگ نے اس میں مزید ہوا بھردی۔۔کچھ ہی دیر گزری تھی ایک اور سندھی چینل مہران ٹی وی نے اچانک خبر بریک کردی کہ پولیس اہلکار نے کوئی سی ایس ایس امتحان پاس نہیں کیا بلکہ اے ایس پی بننے والا نوجوان شہید پائلٹ مریم مختیار کا بھائی شاہ رخ شیخ یے جس کی ایس ایس پی سکھر نے تفتیش کروائی تو مھران ٹی وی کی خبر درست اور کے ٹی این کی خبرجھوٹی ثابت ہوئی ۔۔۔ پپو کا صحافیوں کو مشورہ ہے کہ بریکنگ نیوز کے چکر میں اپنی ساکھ مت خراب کریں آپ اگر ننانوے درست خبریں چلاتے ہیں اور ایک اگر جھوٹی ثابت ہوجائے تو لوگ نناوے بھول کر ایک کے پیچھے ہاتھ دھوکر لگ جاتے ہیں۔۔ابھی مہران ٹی وی کی خبر پوری طرح وائرل بھی نہیں ہوئی تھی کہ سی ایس ایس امتحان پاس کرنے والا اصلی شاہ رخ منظر عام پر آگیا۔ شاہ رخ خان نے کہا کہ وہ کلہوڑو نہیں بلکہ شیخ ہیں اور پولیس سروس آف پاکستان میں تعینات ہوئے ہیں۔ ان کے والد ریٹائرڈ کرنل ہیں اور انہوں نے 2018 میں لمز یونیورسٹی لاہور سے گریجوایشن کی ہے۔انہوں نے مزید کہا ” میڈیا پر ایک جھوٹی خبر گردش کر رہی ہے کہ میں شاہ رخ کلہوڑو ہوں اور ایک پولیس کانسٹیبل ہوں، میں اس خبر کو واضح طور پر مسترد کرتا ہوں۔

