سوشل میڈیاکے ذریعے پاک فوج اوردیگرسرکاری اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈاکرنے کے الزام میں صحافی اسد علی طور سمیت دوافرادکے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرلئے گئے اور اب اس پر اسد علی طور کا موقف بھی آگیا اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھکنڈے انہیں خاموش نہیں کراسکتے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تھانہ جاتلی کوحافظ احتشام احمد نے بتایا کہ سائل کافی عرصہ سے سوشل میڈیا استعمال کررہا ہے، گزشتہ کچھ عرصہ سے اسد علی طور جوکہ اپناسوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھتا ہے اپنی پوسٹوں کے ذریعہ سے مملکت خدادادِ پاکستان اور اسکے اداروں اور پاکستان آرمی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کررہا ہے ۔تھانہ کوٹلی ستیاں کومزمل الحق نےبتایاکہ ایک محب وطن شہری اور سوشل میڈیا صارف ہوں لیاقت حسین سکنہ لالہ زارسوشل میڈیا ٹویٹر اکاؤنٹ کا مشاہدہ کررہاہوں اور یہ بات واضح ہوئی کہ مذکورہ اپنی پوسٹوں کے ذریعے مملکت خداداد پاکستان خصوصا پاک افواج کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور حالیہ کچھ دنوں سے تو مکمل منصوبہ بندی سے سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہا ہےجس سے موجودہ نازک صورت حال میں ان اداروں کی ساکھ کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔اس بارے میں صحافی اسد علی طورکا موقف بھی آگیا۔اندراج مقدمہ کی خبر ملنے پر اسد علی طور نے لکھا ” اہم اعلان ، مجھے سنے بغیر اطلاعات کے مطابق راولپنڈی پولیس نے ایک پراکسی کریکٹر حافظ احتشام کی درخواست پر میرے خلاف پاکستان مخالف اور پاک فوج کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا، ایسے فسطائی ہتھکنڈے مجھے خاموش نہیں کرسکتے ۔دریں اثنا تھانہ کوٹلی ستیاں کومزمل الحق نےبتایاکہ ایک محب وطن شہری اور سوشل میڈیا صارف ہوں لیاقت حسین سکنہ لالہ زارسوشل میڈیا ٹویٹر اکاؤنٹ کا مشاہدہ کررہاہوں اور یہ بات واضح ہوئی کہ مذکورہ اپنی پوسٹوں کے ذریعے مملکت خداداد پاکستان خصوصا پاک افواج کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور حالیہ کچھ دنوں سے تو مکمل منصوبہ بندی سے سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہا ہےجس سے موجودہ نازک صورت حال میں ان اداروں کی ساکھ کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

