426

وزارت اطلاعات و نشریات میں چھ اہم پوسٹیں خالی۔۔۔

وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے ذیلی اداروں میں چھ اہم پوسٹیں خالی ہوگئی ہیں۔ محمد عاصم کھچی کے تبادلے کے بعد ایم ڈی اے پی پی کی پوسٹ 14جولائی سے خا لی ہے۔ رئیسہ عادل کی پی آئی او تعیناتی سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی پوسٹ بھی خالی ہوگئی ۔
ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات کی پوسٹ بھی اشفاق خلیل کو سیکرٹری اطلاعات و نشریات لگانے کے بعد سے خالی ہے۔ دریں اثنا انفارمیشن گروپ افسروں کیلئے اہم خبر ،وفاقی حکومت نے مزید40 پوسٹوں کی منظوری دیدی ۔ انفارمیشن گروپ کے افسروں کیلئے ترقی کے مواقع بڑھ گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

”وزارت اطلاعات و نشریات میں چھ اہم پوسٹیں خالی۔۔۔“ ایک تبصرہ

  1. میں نے میڈیا نہیں چھوڑا، مجھے حالات نے چھوڑنے پر مجبور کر دیا
    ایک بڑے نیوز میڈیا گروپ میں کام کرنے والی شفق فاطمہ کا ذاتی تجربہ

    تحریر:

    نوٹ: یہ تحریر میرے ذاتی تجربات پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد کسی فرد یا ادارے کی کردار کشی نہیں بلکہ ایک ایسے تجربے کو بیان کرنا ہے جس نے میری پیشہ ورانہ، ذہنی اور ذاتی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھتے وقت میرے بھی بے شمار خواب تھے۔ میرا یقین تھا کہ محنت، صلاحیت اور پیشہ ورانہ دیانت کی قدر کی جائے گی، لیکن وقت کے ساتھ میرے تجربات مختلف ثابت ہوئے۔

    میری شادی کے فوراً بعد، ولیمے کے اگلے ہی دن مجھے آفس جوائن کرنے کے لیے کہا گیا۔ ایک خاتون ہونے اور گلشنِ معمار سے روزانہ طویل سفر کرنے کے باوجود مجھے متعدد مرتبہ رات گئے تک کی شفٹوں میں کام کرنا پڑا۔ شدید بارشوں اور خراب موسمی حالات میں بھی مجھے ہر صورت آفس آنے کی ہدایت دی جاتی رہی۔

    دورانِ ملازمت کئی مرتبہ مجھے ایسے کام کرنے کی ہدایت دی گئی جنہیں مکمل کرنے کے بعد انہی کاموں پر مجھے ڈانٹا گیا۔ مشترکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور آئی ڈیز سے متعلق غلطیوں کی ذمہ داری بھی اکثر مجھ پر عائد کی جاتی رہی، حالانکہ ان اکاؤنٹس تک ایک سے زیادہ افراد کی رسائی موجود تھی۔

    جب بھی میری طبیعت خراب ہوتی یا کوئی ہنگامی صورتحال پیش آتی، میں اپنے سپروائزر کو فوری طور پر آگاہ کرتی تھی۔ اس کے باوجود متضاد رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید بیماری اور ڈاکٹر کی میڈیکل سلپ فراہم کرنے کے باوجود بھی مجھے آفس آنے کے لیے کہا جاتا رہا۔ میری ذاتی اور خاندانی مجبوریوں، خصوصاً میری والدہ کی بیماری، کو بھی مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔

    دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد بھی میرے ذاتی واٹس ایپ پر رات گئے تک کام سے متعلق پیغامات اور ہدایات موصول ہوتی رہیں، جس سے میری ذاتی زندگی اور ذہنی سکون متاثر ہوا۔

    یہ تمام حالات کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والے تجربات تھے۔ آخرکار میں نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی بھی ملازمت میری ذہنی صحت، عزتِ نفس اور ذاتی سکون سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی، اور میں نے استعفیٰ دے دیا۔

    استعفیٰ جمع کروانے کے بعد مجھے امید تھی کہ میری شکایت کو سنجیدگی سے سنا جائے گا۔ جب میں نے ہیڈ آفس سے رابطہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو وہاں سے مجھ سے رابطہ کیا گیا، سوالات کیے گئے اور دوبارہ رابطے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ تاہم اس کے بعد مجھ سے مزید کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی مجھے کسی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

    بعد ازاں میں نے دیکھا کہ میری اسامی، Social Media Executive، کے لیے نئی بھرتی کا اشتہار شائع کر دیا گیا۔ اس پر مجھے افسوس ہوا، کیونکہ میری توقع صرف یہ تھی کہ میری شکایت کا بھی اسی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے جس سنجیدگی سے نئی بھرتی کا عمل شروع کیا گیا۔

    میں یہ تحریر کسی سے ہمدردی حاصل کرنے یا کسی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں لکھ رہی۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ میڈیا انڈسٹری سمیت ہر ادارہ اپنے ملازمین، خصوصاً خواتین، کی ذہنی صحت، عزتِ نفس، ذاتی حالات اور محفوظ کام کے ماحول کو وہ اہمیت دے جس کے وہ حق دار ہیں۔

تبصرے بند ہیں