کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے کراچی پریس کلب کے ممبرسینئراور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) کے سابق صدر کاشف ہاشمی کے ساتھ ناظم آباد تھانے میں پیش آنے والے مبینہ پولیس تشدد، بدسلوکی اور ان کا موبائل فون توڑنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت، صحافیوں کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے لیے تشویش ناک قرار دیا ہے۔کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ کاشف ہاشمی گزشتہ شب اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ناظم آباد تھانے میں موجود تھے، جہاں پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کا موبائل فون بھی توڑ دیا گیا۔یہ واقعہ ایس ایچ او تھانہ شارع نورجہاں افتخار تنولی کی موجودگی میں پیش آیا، جس کے حوالے سے بھی وضاحت اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے کہا کہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ تھانے کے اندر اس نوعیت کا مبینہ سلوک نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ اس سے صحافیوں کے تحفظ اور آزادی صحافت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ کسی بھی صحافی کو اس کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران تشدد، ہراسانی یا دباؤ کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے وزیر داخلہ سندھ،آئی جی سندھ پولیس اور کراچی پولیس چیف سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور تشدد و بدسلوکی میں ملوث اہلکاروں سمیت غفلت کے مرتکب ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں ایس ایچ او تھانہ شارع نورجہاں افتخار تنولی کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے اور واقعے کے تمام حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پولیس اسٹیشن جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے میں صحافی کے ساتھ مبینہ تشدد کا واقعہ انتہائی تشویش ناک ہے، جس پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے شفاف تحقیقات اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ کراچی پریس کلب صحافیوں کے تحفظ، آزادی صحافت اور ان کے قانونی و پیشہ ورانہ حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور کاشف ہاشمی کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر متعلقہ فورم پر معاملہ اٹھائے گا۔دریں اثنا کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) ناظم آباد تھانے میں سینئر صحافی اور سابق صدر سی آر اے کاشف ہاشمی کے ساتھ پیش آئے انتہائی افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ سینئر صحافی اور سابق صدر سی آر اے کاشف ہاشمی گزشتہ شب اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں ناظم آباد تھانے میں موجود تھے، جہاں ضلع وسطی پولیس اور ایس آئی یو (سی آئی اے) کے اہلکار آپس میں دست و گریبان تھے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھانے میں رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی کاشف ہاشمی پر تشدد کیا، ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک روا رکھا اور ان کا موبائل فون بھی توڑ ڈالا۔انتہائی شرمناک امر یہ ہے کہ یہ پورا واقعہ ایس ایچ او تھانہ شارع نورجہاں افتخار تنولی کی موجودگی میں پیش آیا، جو کہ قانون کے محافظ ہونے کے باوجود تماشائی بنے رہے اور اس غیر قانونی و پرتشدد عمل کو روکنے کے بجائے خاموشی سے دیکھتے رہے۔سی آر اے کے عہدیداران نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ اور پولیس گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔۔۔سی آر اے کی جانب سے آئی جی سندھ پولیس اور کراچی پولیس چیف سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیں ، کاشف ہاشمی پر تشدد کرنے والے تمام پولیس اہلکاروں اور اس تماشے کے دوران خاموش تماشائی بنے رہنے والے ایس ایچ او شارع نورجہاں افتخار تنولی کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔سی آر اے واضح کرتی ہے کہ اگر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فی الفور کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو سی آر اے کی جانب سے سخت لائحہ عمل طے کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس حکام پر عائد ہوگی۔علاوہ ازیں کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے سینئر صحافی اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) کے سابق صدر کاشف ہاشمی پر ناظم آباد تھانے میں مبینہ پولیس تشدد، بدسلوکی اور ان کا موبائل فون توڑنے کے واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ، صحافیوں کی تذلیل اور پولیس اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی سنگین مثال قرار دیا ہے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے عہدیداران نے کہا کہ کاشف ہاشمی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ناظم آباد تھانے میں موجود تھے، جہاں پولیس اہلکاروں کے درمیان تنازع کے دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا موبائل فون بھی توڑ دیا گیا۔ یہ افسوس ناک واقعہ ایس ایچ او تھانہ شارع نورجہاں افتخار تنولی کی موجودگی میں پیش آیا، جو معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے اور اس حوالے سے جواب دہی کا تقاضا کرتا ہے۔صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ پولیس اسٹیشن کے اندر ایک سینئر صحافی پر مبینہ تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کے محافظوں کو قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی وردی کے پیچھے چھپ کر کسی صحافی کی تذلیل، تشدد یا اس کے پیشہ ورانہ کام میں رکاوٹ ڈالنے کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر صحافی پولیس اسٹیشن کے اندر بھی محفوظ نہیں تو عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران عوام تک حقائق پہنچاتے ہیں اور ان کے ساتھ تشدد یا ہراسانی کا کوئی بھی واقعہ محض ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت، اظہارِ رائے اور عوام کے حقِ معلومات کو دبانے کی کوشش تصور ہوتا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور ایسے کسی بھی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کرے گی جو صحافیوں کو خوف زدہ کرنے یا انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے روکنے کے لیے کیا جائے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے آئی جی سندھ پولیس اور کراچی پولیس چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی شروع کی جائے اور ایس ایچ او شارع نورجہاں افتخار تنولی کے کردار اور مبینہ غفلت کا بھی مکمل جائزہ لیا جائے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں کسی عہدے یا اثر و رسوخ کی پروا کیے بغیر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ محض رسمی انکوائری یا روایتی یقین دہانیاں اب کافی نہیں۔ صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں مؤثر کارروائی نہ ہونے سے ایسے واقعات کی روک تھام مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں فوری، شفاف اور قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں اور صحافی برادری کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے خبردار کیا کہ اگر اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یونین صحافی برادری کی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
10
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل