گوجرہ میں نجی ٹی وی چینل سے وابستہ سینئر صحافی امجد اسلام امجد پر مبینہ قاتلانہ حملے اور اس کے بعد پولیس کی کارروائی سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مبینہ حملے میں صحافی شدید زخمی ہوئے، تاہم الزام عائد کیا گیا ہے کہ تھانہ سٹی پولیس نے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے متاثرہ صحافی کو ہی حراست میں لے کر تھانے میں بند کردیا۔واقعے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امجد اسلام امجد کو مبینہ تشدد کے نتیجے میں شدید چوٹیں آئیں، لیکن پولیس کی جانب سے انہیں فوری طبی امداد اور میڈیکل معائنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ ان الزامات کے بعد متاثرہ صحافی کے ساتھ پولیس کے مبینہ رویے اور واقعے کی قانونی کارروائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق تھانہ سٹی گوجرہ کے ایس ایچ او پر بھی حملے میں ملوث مبینہ ملزمان کے ساتھ سازباز کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی متعلقہ ایس ایچ او یا پولیس حکام کا باضابطہ مؤقف دستیاب ہوسکا ہے۔
معاملے میں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اگر صحافی پر قاتلانہ حملے کی اطلاع پولیس کو دی گئی تھی تو ابتدائی تفتیش، زخمی کے طبی معائنے، مبینہ ملزمان کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ صحافی امجداسلام امجد کے خلاف مدعی سیف اللہ ولد شہباز حسین نے پندرہ اکتوبر کو ایف آئی آر نمبر گیارہ سو بٹا چھبیس میں موقف اختیار کیا کہ ملزم (صحافی) نے پہلے اسے موٹرسائیکل سے ہٹ کیا پھر چاقو سے حملہ کرکے زخمی کیا، جیب سے نقدی اور ہاتھ سے گھڑی بھی اتروا لی۔۔پھر لوگوں کے جمع ہونے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگیا۔۔ مدعی کے مطابق اس نے ڈسٹرکٹ اسپتال گوجرہ سے میڈیکل بھی کرایا، جس کے بعد رپورٹ درج کرانے تھانے آیا ہے۔۔ صحافتی حلقوں نے اس واقعے کے حوالے سے اعلیٰ پولیس حکام، بالخصوص ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ، آر پی او فیصل آباد اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لائیں۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ صحافی پر مبینہ حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، متاثرہ صحافی کو ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور پولیس اہلکاروں کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی بھی شفاف انکوائری کی جائے۔
30