ضلع گھوٹکی کے علاقے خانپور مہر سے لاپتا اور بعد ازاں اغوا قرار دیے جانے والے سینئر صحافی عظیم سیال بحفاظت بازیاب ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق عظیم سیال کو شکارپور سے سکھر منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی کے بعد انہیں اہل خانہ کے ہمراہ گھوٹکی روانہ کردیا گیا۔عظیم سیال کا تعلق خانپور مہر سے ہے اور وہ نجی سندھی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب خانپور مہر سے اپنے گھر جاتے ہوئے لاپتا ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ان کی گاڑی ضلع سکھر کی حدود میں پنوعاقل کے علاقے سدوجا کے قریب لاوارث حالت میں ملی، جسے پولیس نے تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردی تھیں۔صحافی کے لاپتا ہونے کے بعد ان کے اغوا کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، جس پر سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا نوٹس لیا۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے عظیم سیال کی بحفاظت بازیابی اور واقعے کی شفاف و جامع تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی پولیس حکام کو تمام پہلوؤں سے تحقیقات اور صحافی کی جلد بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔عظیم سیال کی تلاش کے لیے سکھر، گھوٹکی اور ملحقہ کچے کے علاقوں میں پولیس کی سرگرمیاں تیز کردی گئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق پنوعاقل اور مٹھو پتن کے علاقوں میں پولیس کیمپ قائم کیے گئے جبکہ شکارپور اور کشمور کے بعض علاقوں میں بھی نگرانی اور سرچ آپریشن جاری رہا۔منگل 29 ستمبر کو عظیم سیال کی بحفاظت بازیابی کی اطلاع سامنے آئی۔ ایس ایس پی سکھر احمد چودھری کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے بازیاب ہونے والے صحافی کو شکارپور سے سکھر پہنچایا۔ ایس ایس پی آفس کے مطابق احمد چودھری خود عظیم سیال کو اپنے ہمراہ شکارپور سے سکھر لائے، جہاں ابتدائی اور ضروری کارروائی مکمل کیے جانے کے بعد انہیں اہل خانہ اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گھوٹکی روانہ کردیا گیا۔عظیم سیال کے اغوا کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں صحافی تنظیموں اور میڈیا کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ خانپور مہر سمیت مختلف علاقوں میں صحافیوں نے احتجاج کیا جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین نے سندھ پنجاب قومی شاہراہ پر بھی دھرنا دیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ عظیم سیال کی فوری اور بحفاظت بازیابی تھا۔سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام سندھ سمیت مختلف حلقوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صحافی کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔عظیم سیال کی بازیابی کے بعد صحافتی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال یہ تفصیلات باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئیں کہ انہیں شکارپور کے کس مقام سے اور کن حالات میں بازیاب کرایا گیا، آیا کسی کارروائی کے دوران انہیں بازیاب کیا گیا یا اغوا کار انہیں چھوڑ کر فرار ہوئے۔ اسی طرح اغوا میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاریوں کے حوالے سے بھی کوئی حتمی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔پولیس حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور توقع ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد اغوا کے محرکات، ملزمان اور صحافی کی بازیابی کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آسکیں گی۔
12
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل