کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے کے یو جے دستور کے سینئر ممبر شکیل نائچ کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے دو نوٹسز جاری کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔جاری کردہ بیان میں کے یو جے دستور کے عہدیداروں نے کہا کہ صحافیوں کو بار بار نوٹسز اور طلبی کے ذریعے دباؤ میں لانے کا تاثر پیدا ہونا آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران عوامی مفاد کے معاملات اجاگر کرتے اور سوالات اٹھاتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کسی بھی قانونی کارروائی میں شفافیت، واضح قانونی جواز اور تمام آئینی و قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کے یو جے دستور قانون کی بالادستی اور قانونی عمل کا احترام کرتا ہے، تاہم قانونی کارروائی کے نام پر صحافیوں کو غیرضروری دباؤ، خوف یا ہراسانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت یا قانونی معاملہ موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق شفاف طریقے سے نمٹایا جائے اور کسی بھی ایسے طرز عمل سے گریز کیا جائے جس سے صحافی برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو۔نصراللہ چوہدری اور ریحان خان چشتی نے کہا کہ شکیل نائچ ایک سینئر صحافی اور کے یو جے دستور کے رکن ہیں، ان کے معاملے کو محض ایک فرد کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ صحافیوں کو مسلسل نوٹسز اور طلبی کے ذریعے دباؤ میں لانے کی شکایات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ آزادی صحافت کے حوالے سے کسی بھی قسم کے خدشات کو جنم نہ ملے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ شکیل نائچ کو جاری کیے گئے دونوں نوٹسز کے معاملے میں تمام قانونی تقاضوں، شفافیت اور صحافتی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور کسی بھی غیرضروری دباؤ یا ہراسانی سے اجتناب کیا جائے۔کے یو جے دستور کے صدر، سیکرٹری اور مجلس عاملہ نے واضح کیا کہ صحافیوں کے جائز حقوق، آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے صحافی تنظیمیں اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے یا صحافتی سوالات کا جواب قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت دیا جانا چاہیے، تاکہ میڈیا اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا ماحول برقرار رہے۔
35
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل