شدید گرمی اور موسمیاتی بحران کی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کی تربیتی نشست۔۔۔ 9

شدید گرمی اور موسمیاتی بحران کی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کی تربیتی نشست۔۔۔

کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے اشتراک سے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے لیے ’’شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور کراچی‘‘ کے موضوع پر تربیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں گرمی کی لہروں، صحتِ عامہ اور موسمیاتی بحران کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔تین گھنٹے جاری رہنے والی نشست کی قیادت کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی کے ڈائریکٹر یاسر حسین نے کی۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی کی سیکریٹری فہمیدہ یوسفی، صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی اور سیکریٹری اسلم خان بھی موجود تھے۔فہمیدہ یوسفی نے کہا کہ کراچی پریس کلب میں ماحولیاتی کمیٹی کا قیام اس ضرورت کے تحت عمل میں آیا کہ موسمیاتی بحران جیسے اہم موضوع پر صحافیوں کو معلومات اور گفتگو کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق بحران کی شدت کے پیش نظر اس موضوع پر مؤثر مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
یاسر حسین نے گرمی کے انسانی جسم پر اثرات، درجۂ حرارت اور ہوا میں نمی کے باہمی تعلق، ال نینو، کراچی میں گرمی کے موسمی رجحانات، پانی کی قلت، زراعت اور دریائے سندھ کے سکڑتے ڈیلٹا پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال محض موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران ہے، جس کے پیمانے اور شدت کے مطابق ردعمل نظر نہیں آ رہا۔نشست میں کراچی کے موسمیاتی عملی منصوبے میں شامل گرمی سے متاثر ہونے کے خطرے کے نقشوں اور عمارتوں کی حرارتی عکس بندی سے متعلق تحقیقی مطالعات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ شرکا کو آغا خان یونیورسٹی کے کراچی اور مٹیاری میں گرمی سے بچاؤ کے تجربات سے آگاہ کیا گیا، جن میں چھتوں پر حرارت منعکس کرنے والی تہہ چڑھانا، ہوا کی آمدورفت بہتر بنانا اور چھتوں کو سایہ فراہم کرنا شامل ہے۔
کراچی شہری تجربہ گاہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ 60 برسوں میں شہر کے دن کے درجۂ حرارت میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ رات کے درجۂ حرارت میں 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔ نشست میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث گرمی کی لہروں کے دوران شہریوں کو درپیش مشکلات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے تک بجلی کی بندش شہریوں کی ٹھنڈک کے ذرائع تک رسائی محدود کر دیتی ہے۔
شرکا نے عمارتوں میں توانائی کی بچت، 2023ء کے توانائی سے متعلق ضوابط اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تعمیراتی قوانین پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر کراچی کے لیے مرتب کردہ منصوبۂ ٹھنڈک کا جائزہ پیش کیا گیا، جس میں قبل از وقت انتباہی نظام بہتر بنانا، 10 ہزار شہری جنگلات قائم کرنا، ماسٹر پلان 2047ء میں گرمی سے نمٹنے کے اقدامات شامل کرنا، صحت کے مراکز کو تیار کرنا اور مقامی آبادیوں کے لیے ٹھنڈک کے مراکز قائم کرنا شامل ہے۔
نشست کے اختتام پر صحافیوں نے گرمی کی لہروں کے صحتِ عامہ پر اثرات اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے محنت کشوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو لاحق خطرات سے متعلق سوالات کیے۔ یاسر حسین نے شرکا کے سوالات کے جوابات دیے اور گرمی سے متعلق خبروں کی درست اور مؤثر رپورٹنگ کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی کی۔کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر نے موسمیاتی مسائل کی رپورٹنگ بہتر بنانے اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں