پاکستان کے معروف سینئر صحافی روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف، کالم نگار، کراچی پریس کلب کے سینئر رکن سید اطہر علی ہاشمی کو جمعرات کی سہہ پہر کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، قبل ازیں ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر جامع مسجد شہباز بلاک نمبر 12 گلستان جوہر میں ان کے چھوٹے بھائی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم مولانا سید راحت علی ہاشمی کی امامت میں ادا کی گئی ۔۔۔ سید اطہر علی ہاشمی جمعرات کی علی الصبح نیند کے دوران رضا الٰہی سے انتقال کر گئے تھے، انکی عمر74 برس تھی۔انہوں نے سوگواران میں بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں ۔۔۔سید اطہر علی ہاشمی 44 برس سے صحافت سے وابستہ تھے وہ نہ صرف اردو صحافت کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت سکھائی ۔ان کا شمار عرب نیوز،اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی رہے۔اطہر علی ہاشمی کو زبان و بیان پر گرفت حاصل تھی۔ان کا مشہور کالم ’خبر لیجیے زباں بگڑی‘ اردو دانی کے لحاظ سے سند کی حیثیت رکھتا ہے جس میں وہ اردو زبان کی بول چال میں رائج غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی تصحیح کرتے تھے۔ مرحوم کا یہ کالم مختلف اخبارات کی ویب سائیٹس اور ٹی وی پر کافی عرصے سے شائع ہورہا تھا ،سید اطہر علی مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے 8اگست بروز ہفتہ بعد نماز عصر تا مغرب ان کی رہائش گاہ بلاک12 گلستان جوہر میں فاتحہ اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سید اطہر علی ہاشمی کے انتقال پر کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران، سیکرٹری ارمان صابر اور ارکان گورننگ باڈی نے مرحوم کی صحافتی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے دکھ ،افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے اہلِ خانہ و پسماندگان سے دلی تعزیت کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔

