seena ba seena 109

سینہ بہ سینہ  قسط نمبر 109۔۔

سینہ بہ سینہ  قسط نمبر 109۔۔

تنخواہوں میں تاخیر،برطرفیاں،میڈیا زوال پذیر؟؟

سما ٹی وی میں جاب سیکورٹی سوال بن گئی

رن ڈاؤن پرڈیوسر کے آگے سارے بے بس

چہیتی اینکر  کانٹینٹ ہیڈ،جسے کانٹینٹ کا ککھ نہیں پتہ

ہم نیوز پر منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آگئے

اے جی این کے مالک کو حراست میں کیوں لیاگیا؟

ارشدشریف کیس اب  کینیا کی سپریم کورٹ میں

ابتک اسلام آباد بیوروسے 8 ملازمین فوری برطرف

قسط نمبر109

تحریر: علی عمران جونیئر۔۔

دوستو، پانچ فروری دوہزار پچیس کو آپ کے سب سے فیوریٹ سلسلے سینہ بہ سینہ کی قسط نمبر 108 شیئر کی گئی تھی جس کے بعد تقریبا تیرہ ماہ   ہوگئے، بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے مزید کچھ لکھا نہیں جاسکا، پہلا رمضان المبارک گھر میں گزررہا ہے تو کچھ وقت میسر آیا، اس لئے سوچا آپ لوگوں کیلئے میڈیا انڈسٹری کے سب سے مقبول عام سلسلے کی تازہ قسط ہی لکھ دی جائے۔۔ ہربار کی طرح ہمیں پورا یقین ہے کہ آپ کو قطعی مایوسی نہیں ہوگی، اور یہ قسط پڑھ کر بھی نہ صرف مزہ آئے گا بلکہ آپ کی معلومات میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔۔۔

پرانے ریڈرز سینہ بہ سینہ کی اس قسط میں شاید تشنگی محسوس کریں اور بولیں کہ اتنے گیپ کے بعد حاضری دی وہ بھی اتنی مختصر۔۔ لیکن ہمارا شروع سے ایک اصول رہا ہے کہ مخبریاں تگڑی ہوں تو سینہ بہ سینہ لکھا جائے ورنہ ٹیبل اسٹوریز سے کبھی کریڈیبلٹی نہیں بنتی۔الحمدللہ، یہ آپ لوگوں کا پیار اور محبتوں کا سلسلہ ہی ہے کہ ایک سال کے بعد بھی سینہ بہ سینہ کا پوچھا جاتا ہے، اور اس کی فرمائش کی جاتی ہے۔۔ تمہید زیادہ لمبی ہونے سے قبل۔۔ آئیے سینہ بہ سینہ کی نئی قسط میں دیکھئے پپو آپ کیلئے کیا کچھ نیا لایا ہے۔۔

سب سے پہلے ذکر ہوجائے اس ایک سال کا، جس دوران سینہ بہ سینہ آپ لوگوں تک نہ پہنچ سکا۔۔ اس ایک سال کے دوران پاکستان کا میڈیا ئی شعبہ معاشی اور سیاسی دباؤ کے باعث نیوز رومز کی بندش اور بڑے پیمانے پر برطرفیوں میں تیزی کا سامنا کر رہا ہے، جس سے اداریاتی آزادی کی بقا پر نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد معروف اداروں نے آمدنی میں کمی اور بڑھتے ہوئے آپریشنل خطرات کے باعث اپنے پلیٹ فارمز بند کیے اور درجنوں صحافیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔حالیہ رپورٹس کے مطابق کم از کم 15 پرنٹ اور ڈیجیٹل خبر رساں اداروں نے ناقابلِ برداشت اخراجات، اشتہاری آمدنی میں کمی اور سرکاری فنڈز پر انحصار کے باعث عملہ کم کیا یا مکمل طور پر بند ہو گئے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں تاخیر اور کنٹریکٹس کا خاتمہ اب بڑے شہری نیوز رومز اور علاقائی اداروں دونوں میں معمول بن چکا ہے۔

ملک کے ایک بڑے میڈیا گروپ کی اردو ڈیجیٹل سروس ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کی بندش کے نتیجے میں اشتہاراتی آمدنی میں کمی کے باعث 12 ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ 2025 میں دیگر بڑی کٹوتیوں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم نکتہ سے 37 افراد کی برطرفی، جنگ راولپنڈی اور دی نیوز میں مجموعی طور پر 80 آسامیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ اسی طرح اخبار آواز سے مزید 137 ملازمتیں ختم کی گئیں۔

ترمیم شدہ سائبر کرائم قوانین اور ریگولیٹری اقدامات کے تحت صحافیوں کو طلب کرنا، آن لائن مواد بلاک کرنا اور جرمانے عائد کرنا معمول بنتا جا رہا ہے، جس سے آزاد رپورٹنگ پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں یا سیکیورٹی معاملات پر معمولی کوریج بھی قانونی دھمکیوں کا باعث بن سکتی ہے، جس سے پہلے ہی سکڑتے ہوئے نیوز رومز پر مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔دوہزار پچیس کے ورلڈ پریس ریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی 158ویں نمبر پر آ گئی ہے، جو رپورٹنگ میں بڑھتی ہوئی یکسانیت اور تحقیقی صحافت پر پابندیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے علاقائی اخبارات میں عملے میں 50 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ فری لانسرز اور چھوٹے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز غیر یقینی حالات میں خبروں کا خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، نیوز لیٹرز اور سوشل میڈیا منصوبے تنقیدی رپورٹنگ کے متبادل فراہم کر رہے ہیں، تاہم محدود فنڈنگ، پلیٹ فارمز کی مانیٹرنگ پالیسیوں اور سخت ریگولیٹری نگرانی کے باعث ان کی پائیداری کو خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر نظامی اصلاحات، متنوع آمدنی کے ذرائع، سرکاری اشتہارات کی شفاف تقسیم اور قانونی تحفظات فراہم نہ کیے گئے تو پاکستان کا آزاد میڈیا منظرنامہ بڑی حد تک خاموش ہو سکتا ہے۔اگرچہ ڈیجیٹل رپورٹنگ امید کی ایک کرن پیش کرتی ہے، مگر معاشی کمزوری اور ریاستی اثر و رسوخ نے آزاد میڈیا کی رسائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر محدود کر دیا ہے۔ صحافیوں کو مالی بقا اور اداریاتی دیانت کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے، جس سے یہ اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آیا موجودہ حالات میں پاکستان میں حقیقی معنوں میں آزاد صحافت برقرار رہ سکتی ہے یا نہیں۔پاکستانی صحافیوں کے لیے بندشوں، برطرفیوں اور سنسرشپ کا یہ مجموعہ آزادیٔ صحافت اور عوام کو متنوع معلومات تک رسائی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ میڈیا پیشہ ور افراد کو آزاد صحافت کے تسلسل کے لیے نئے مالی ذرائع، مشترکہ تحقیقی رپورٹنگ اور ڈیجیٹل استحکام کی حکمتِ عملیوں پر غور کرنا ہوگا۔۔

گزشتہ ایک سال کے گیپ  سے متعلق ہلکے پھلکے تبصرے اور سرسری جائزے  کے بعد سب سے پہلے ذکر ہوجائے سما ٹی وی کا۔۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ سما ٹی وی میں جاب سیکیورٹی کے حوالے سے ملازمین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ادارے کے موجودہ حالات کے باعث ملازمین اپنے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔چند روز پہلے دو ملازمین ہارٹ اٹیک کے باعث تین روز میں چل بسے،جس سے صورتحال مزید سنجیدہ ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی تمام ملازمین کے دوبارہ انٹرویوز کیے جا رہے ہیں ،بتایا جاتا ہے کہ ہارٹ اٹیک سے انتقال کرجانے والے عامر کا بھی اس کے انتقال سے ایک روز قبل انٹرویو ہوا تھا۔۔جس سے جاب سیکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ ادارے میں جاب سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی واضح اور مؤثر پالیسی نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر واضح پالیسی اور ملازمین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ بے یقینی کی صورتحال ختم ہو سکے اور کام کا ماحول بہتر بنایا جا سکے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ظفر صدیقی والا علیم خان کا سماء ہے؟ نیا ڈائریکٹر نیوز ہائر کیا گیا ہے یا انہیں سماء بیچ دیا گیا ہے؟ورکرز دوست ماحول کیلئے مشہور سماء ٹی وی شدید انتظامی بحران کا شکار لگ رہا ہے، ماہ رمضان کے پہلے روز کے انتظامات نےوہاں کام کرنے والے صحافیوں کی پریشانی مزید بڑھا دی۔اصل کہانی یہ ہے کہ لاہور منتقلی کے بعد سماء ٹی وی میں افطار کے نام پر ورکرز سے مذاق کیا جاتا ہے انہیں صرف کھجور اور ایک گلاس لال شربت دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی کھانا اسٹارٹ کر دیا جاتا ہے۔ کھانے کا نارمل وقت رات ساڑھے آٹھ سے ساڑھے دس بجے تک ہوتا ہے اسے رمضان میں افطار سے رات 8:45تک کر دیا گیا ہے۔ دیگر شعبوں میں تو یہ فارمولا چل سکتا ہے لیکن نیوز روم اسٹاف کیلئے یہ وقت شدید مصروفیت کا ہوتا ہے اس لیے ان کی اکثریت کسی بھی صورت 10بجے سے پہلے کھانا نہیں کھا سکتے، سابق ڈی این نیوز روم کیلئے اپنی طرف سے افطار کا اہتمام کرتے تھے اور انتظامیہ سے کہہ کر نیوز روم کیلئے کھانا رکھوا دیتے تھے یوں خاموشی سے رمضان گزر جاتا تھا لیکن موجودہ  ڈی این کی تو نیوز روم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اس لیے نیوز روم بے یارو مددگار ہوگیا ۔پپو کا کہنا ہے کہ نئے صاحب نے نیوز کا دورانیہ اتنا بڑھا دیا ہے کہ صحافیوں کو سانس لینے کی فرصت نہیں مل رہی(دورانیہ کتنا بڑھایا ہے آگے چل کر بتارہے ہیں، ذرا صبر کرلیں)۔۔ اور پہلے روزے میں بھی یہی ہوا ایک تو افطار کے وقت کے دوران 6بجے واحد سماء چینل براہ راست خبریں دکھا رہا تھا اس دوران آدھا اسٹاف افطار کر رہے تھے اور باقیوں کی گھر سے لائی افطاری بھی رہ گئی پھر غزہ بورڈ کے اجلاس کی وجہ سے سب ورکرز کام میں لگ گئے تو کھانے کا وقت بھی نکل گیا اور کھانا پڑا ہونے کے باوجود انتظامیہ نے ٹائم گزرنے پر کھانا دینے سے انکار کر دیا یوں اکثر صحافی بغیر کچھ کھائے کام کرتے رہ گئے۔ جس سے ان میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔اور ہاں افطار کیلئے جس رقم کا ورکرز سے وعدہ کیا گیا تھا، 14 رمضان المبارک گزرنے تک کچھ بیوروز کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ انہیں اب تک افطار کے پیسے تک نہیں ملے۔۔

رمضان المبارک کے دوران ہی چند روز قبل سما ٹی وی کے چیئرمین اور وفاقی وزیرعبدالعلیم خان دفتر تشریف لائے تو  صفائی کے ناقص انتظامات پر ایڈمن کو جھاڑ پلا دی جس پر انچارج  کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔۔پپو کا کہنا ہے کہ سماء میں جب سے نئے ڈی این آئے ہیں تو حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں، ہر شعبے کا عملہ موج میں ہے مگر نیوز روم کے ورکرز کو اچھوت بنا دیا گیا ہے پہلے نیوز روم سے پانی ہٹا دیا گیا اب پانی پینے کیلئے اٹھ کر دور جانا پڑتا ہے اور کینٹین تک پہنچو تو پتہ چلتا ہے وہاں گلاس ہی نہیں یا بوتل خالی ہو چکی ہے اس طرح بیشتر اسٹاف نے پانی پینا ہی چھوڑ دیا ہے۔ چائے ایسی بنا کر دی جاتی ہے کہ بندہ خود ہی پینے سے انکار کر دے اس طرح اکثر نیوز اسٹاف نے چائے بھی چھوڑ دی ہے اور کینٹین کا عملہ کھانا اس حقارت اور متکبرانہ انداز میں فراہم کرتا ہے کہ جیسے کہہ رہا ہو کہ کھانا ہے تو کھاؤ نہیں تو نکلو یہاں سے۔ متعدد لوگ سفید پوشی کے مارے حلق سے اتار لیتے ہیں اور کچھ نے کھانے سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے۔ لاہور ہیڈآفس کے ورکرز کا کہنا ہے کہ نئے ڈی این کی کسی بھی شعبے پر نظر نہیں وہ چینل کو ایسے چلا رہے ہیں جیسے انھوں نے خرید لیا ہے اور وہ کسی بھی قاعدے قانون سے بھی بالا ہوں۔ انھوں نے ہر مقام پر اپنے ٹاؤٹ بٹھا دیے ہیں جو من مانی اور اپنی محدود سوچ کے تحت احکامات جاری کر رہے ہیں جس سے ورکرز پر غیر ضروری بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ریٹنگ لانے کی کوشش میں الٹے سیدھے فیصلے کیے جا رہے ہیں لیکن نتیجہ صفر ہی نکل رہا ہے،( اب یہاں پر کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ کہ  اتوار یکم مارچ کو نوبجے سما کا بلیٹن ریٹنگ میں پہلی پوزیشن پر رہا، لیکن اعتراض کرنے والوں کو شاید علم نہ ہو کہ جیونیوز ہیکرز کی وجہ سے ڈسٹرب تھا، جس کی وجہ سے اس کی نشریات متاثر ہوئیں یوں جیوہمیشہ کی طرح پہلی پوزیشن حاصل نہ کرسکا۔۔)۔۔

رمضان میں تمام چینلز اسٹاف کا خیال رکھتے ہوئے نیوز کا دورانیہ کم کر لیتے ہیں مگر سماء میں مسلسل بڑھا دیا گیا ہے جس سے مارننگ اور نائٹ میں کام کا بوجھ دگنا ہوگیا ہے اور ورکرز کو روزے کی حالت میں بھی سرکھجانے کی فرصت نہیں کیونکہ  سماٹی وی  میں نیوز اسٹاف ملک بھر کے دفاتر میں پہلے ہی انتہائی محدود ہے ایک شخص چھٹی کرتا ہے تو باقیوں کی جان پر بن آتی ہے ایسے میں کام ڈبل ہو جانے سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ اوپر  سے نئے ڈی این نے سارے اصول ایک طرف رکھ کر پورے چینل میں غیر اعلانیہ اپنا سابق چینل کا فارمولا اپلائی کرتے ہوئے اپنا ٹولہ سسٹم نافذ کر دیا ہے۔ جس کے تحت کراچی بیورو میں بیورو چیف سمیت سینئر رپورٹرز کی موجودگی کے باوجود دو سینئر پروڈیوسرز بھی موجود ہیں مگر  وہاں ایک چہیتی اینکر کو بطور کانٹینٹ ہیڈ ہائر کرکے سب پر فوقیت دی جا رہی ہے اور باقی کسی کو لفٹ نہیں کرائی جا رہی جبکہ ان محترمہ کو کانٹینٹ کا کچھ اتا پتا تک نہیں ہے دوسری جانب اسلام آباد اور لاہور بیوروز میں بھی صورتحال ایسی ہی جہاں بیورو چیفس کو بائی پاس کر کے ایک ایک مخصوص رپورٹر کی مدد سے معاملات کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ نیوز روم کا تو مکمل طور پر نظام ہی الٹ دیا گیا ہے جہاں کنٹرولر نیوز اور ایگزیکٹو پروڈیوسرز سے زیادہ اختیارات اپنے چند جونیئر مخبروں کو سونپ دیے ہیں جس سے نیوز روم میں انارکی پیدا ہو گئی ہے جہاں دونوں گروپوں کی حکم بجاآوری کرتے کرتے عام ورکرز کی کمر جھک گئی ہے کیونکہ “افسران” کے دو گروپ بننے کی وجہ سے کام کرنے والوں کی تعداد کم اور حکم جاری کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو چکی ہے اور فرمائشیں ڈبل ہو گئی ہیں جس سے تمام بیوروز بھی بےحال ہو کر رہ گئے ہیں۔ غیر ضروری آئٹمز تیار کروائے جاتے ہیں اگر دس رپورٹس تیار کرائی جائیں تو چلتی دو ہیں باقی ڈسٹ  بن  میں جاتی ہیں اور پھر نئی فرمائش۔ ڈی این اسٹاف کو کوئی تسلی دینے کے بجائے پہلے تو میل ملاقات ہی نہیں اگر کبھی کوئی بات کر بھی لیں تو نکالنے کی دھمکی ہی دی جاتی ہے۔ ڈائریکٹر نیوز کراچی ہوں لاہور یا اسلام آباد رابطے اور میٹنگز صرف اپنے انہی دو چار افراد یا پھر فی میل رپورٹرز اور فی میل اینکرز سے ہی رکھتے ہیں باقی بھوکے پیاسے ہیں یا انھیں کوئی پریشانی ہے اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس صورتحال میں چینل کی ریٹنگ میں تو کوئی بہتری آنے کی امید نہیں البتہ ورکرز خصوصاَ صحافیوں کی حالت بگڑتی جا رہی ہے ۔۔پپو کا مزید کہنا ہے کہ ڈیوٹی ٹائم میں گریس ٹائم پندرہ منٹ سے کم کرکے دس منٹ کر دیا ہے جس کے بعد لیٹ مارک ہو جاتی ہے۔ آفس میں بسکٹ ٹافی تک کسی بھی قسم کی کوئی چیز کھانے پر پابندی ہے۔نیوز روم کرسیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، انہی کو بار بار پیوند لگاتے رہتے ہیں ۔۔ دوسرے دن پھر ٹوٹ جاتی ہیں اس لیے سیٹ سے اٹھو تو دوسرا کرسی لے جاتا ہے۔ پپو کے مطابق سما ٹی وی میں نیوز کا کوئی پرسان حال نہیں ،نیوز ڈپارٹمنٹ کے لوگ یتیمی کے دن گزار رہے ہیں۔۔ ڈائریکٹر نیوز وہی کرتے ہیں جو چینل کی بااثر خاتون  انہیں حکم کرتی ہیں۔۔ رمضان سے قبل نیوز روم سے پانی کا ڈسپنسر ہٹا دیا گیا۔۔ جو ڈائریکٹر نیوز کے بولنے کے باوجود تاحال واپس نہیں آیا۔۔ نیوز روم کے لوگوں کیلئے سما کا دفتر کراچی بن گیا ہے جہاں وہ پانی سے محروم ہیں۔۔ اسٹاف کے لوگ پانی کی بوتلیں لئے جگہ جگہ پھر رہے ہوتے ہیں۔۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی نیوز روم میں دستیاب نہیں۔رمضان المبارک میں افطار کیلئے صرف کھجور اور پانی دیا جارہا ہے۔۔ کہا جاتا ہے کھجور اور پانی کے بعد کھانا کھا لو اور کھانا بھی 8 بجے کے بعد نہیں ملے گا۔۔ نیوز روم کے لوگوں نے درخواست کی کے کھانے کا وقت بڑھایا جائے تاکے 9 بجے کے بلیٹن سے فری ہو کر کھانا کھا سکیں۔۔ مگر ایڈمن کی طرف سے صاف منع کردیا گیا۔۔سما کے ملازمین پر ایک اور اضافی بوجھ 6 بجے کا بلیٹن ڈال دیا گیا ہے۔۔جب کہ  ہر جگہ اس وقت افطار ٹرانسمیشن ہوتی ہے۔۔ پی سی آر۔۔ اسائمنٹ۔۔ رن ڈاؤن  کے لوگ روزہ بھی  ٹھیک سے افطار نہیں  کرپارہے۔۔ورکرز کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر نیوز کو ورکرز کے کسی معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں وہ صرف لوگوں سے کام لے رہے ہیں۔۔ رمضان کے مہینے میں جہاں کام کم ہوتا ہے وہ سما میں ٹرپل کام ہورہا ہے۔۔ صبح 7 بجے بلیٹن۔۔ پھر 9 سے 11 بلیٹن۔۔۔ پھر 11 میں 15 منٹ۔۔ اسکے بعد 12 کا بلیٹن پھر 2 سے 3 پھر خبریں۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ نیوز روم کا کنٹرول ایک رن ڈاون  پرڈیوسرکے حوالے کردیاگیا ہے جو ڈی این کی آنکھ کا تارا ہے، یہ آنکھوں کا تارا نیوز روم میں کنٹرولر اور  ایگزیکٹیو پروڈیوسر سمیت کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور جو جی  میں آئے کرتا ہے۔۔ جب دل کیا دفتر آئے یا جب دل کیا چھٹی کرلی۔۔ انہیں صاحب کے کہنے پر اس وقت سما سے لوگوں کو نکالا بھی جارہا ہے۔۔  نیوزروم کے سینئر لوگ جو اس کے زیر اثر نہیں انہیں ایک ایک کر کے سائیڈلائن کیا جاریا ہے۔۔۔ شام کے شفٹ انچارج اور ایک سینئر رنڈاون پروڈیوسر کو صبح میں بھیج دیا گیا تاکہ  شام میں منظور نظر رن ڈاون پروڈیوسر کی حکمرانی قائم ہوسکے۔۔پپو کا کہنا ہے کہ چینل کے مالک علیم خان نے اگر صورتحال کا جلد نوٹس نہ لیا تو پھر غیر یقینی کی یہ فضا چینل کو منہ کے بل گرائے گی اور پھر سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔اگر سما انتظامیہ یا سما ٹی وی کے کسی ذمہ دار کو ہماری باتیں ہضم نہیں ہوئیں تو وہ اپنا موقف دے سکتا ہے، ہم اسے بھی اگلے سینہ بہ سینہ میں من و عن شائع کریں گے۔۔

سما کی تفصیلی کہانی تو آپ نے پڑھ لی۔۔ اب ذکر ڈان کا۔۔ جہاں سرکاری اشتہارات کی بندش کی وجہ سے ادارہ مالی بحران کا شکار ہے، ایسے میں ڈان کے سینئر صحافیوں نے بونس کا مطالبہ کردیا ہے۔ڈان کے سینئر صحافیوں نے عوامی طور پر اخبار کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ 15 دسمبر گزشتہ سال سے روکا گیا سالانہ عملے کا بونس فوری طور پر جاری کیا جائے، جس سے ادارے کی مالی اور لیبر پالیسیوں پر سوالات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔ ادارتی ٹیم کے سینئر رکن خلیق کیانی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ “قانوناً لازمی سالانہ عملے کا بونس” بغیر کسی وضاحت کے روک لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عملہ اور ان کے اہلِ خانہ پہلے ہی کئی برسوں سے تنخواہوں میں کٹوتیوں اور طبی و دیگر مراعات میں کمی برداشت کر رہے ہیں۔ڈان کے ایک اور سینئر صحافی باقر سجاد نے بھی بونس کی ادائیگی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جاری تنخواہی کٹوتیاں، روکا گیا سالانہ بونس اور دیگر کمیوں نے خاندانوں کو سخت متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیق کیانی نے ان خدشات کو آواز دی ہے جو بہت سے ملازمین نجی طور پر محسوس کرتے ہیں، اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عملے کے حوصلے اور اعتماد پر پڑنے والے اثرات کو تسلیم کرے۔دوسری جانب، ڈان یونین کے صدر محمد کاشف نے انتظامیہ پر زیادہ سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کم از کم اجرت کے قوانین پر گزشتہ تین برس سے عملدرآمد نہیں کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ بعض ملازمین کو مہنگائی میں اضافے کے باوجود 32 ہزار روپے یا اس سے بھی کم تنخواہ دی جا رہی ہے۔اپنی پوسٹ میں کیانی نے کہا کہ عید سے قبل یہ تاخیر خاص طور پر تکلیف دہ ہے اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عید ملازمین کے لیے یومِ سوگ نہ بنے۔ ان کے بیان پر موجودہ اور سابق میڈیا پیشہ ور افراد اور قارئین کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے آیا۔ڈان کے سابق صحافی احسن رضا نے جواب میں کہا کہ اگر مالی مشکلات بونس کی ادائیگی میں رکاوٹ بن رہی ہیں تو انتظامیہ کو بعض ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع ختم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس طرح کی بچت سے لاہور دفتر کے عملے کے بونس ادا کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کے ساتھ کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا اور یہ دعوے تاحال غیر مصدقہ ہیں۔سوشل میڈیا پر دیگر صارفین نے بھی طویل عرصے سے جاری تنخواہی کمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک صارف محمد اختر نے الزام لگایا کہ فروری 2019 سے ملازمین کو مسلسل 40 فیصد تنخواہ کٹوتی کا سامنا ہے اور آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ میں بے ضابطگیوں کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم، یہ دعوے اس موقع پر سرکاری کمپنی ریکارڈ کے ذریعے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈان اس سے قبل مالی مشکلات کا ذکر کر چکا ہے۔ 2025 میں ادارے نے عوامی طور پر کہا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کے محکموں نے اکتوبر 2024 سے گروپ کو اشتہارات دینا بند کر دیے تھے، جس سے آمدنی پر دباؤ بڑھا۔گزشتہ دسمبر میں وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے گزشتہ 13 ماہ کے دوران ڈان گروپ کو 86 کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کیے، جو اوسطاً تقریباً 6.5 کروڑ روپے ماہانہ بنتے ہیں۔ یہ متضاد بیانات ریاستی اشتہارات اور میڈیا کی پائیداری پر ان کے اثرات کے حوالے سے جاری تنازع کی نشاندہی کرتے ہیں۔ڈان انتظامیہ کی جانب سے  تاخیر سے بونس کی ادائیگی کے دعوے پر کوئی  بیان جاری نہیں کیا گیا ۔اندرونی معاوضوں کے تنازعات کا یوں عوامی سطح پر آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے بڑے نیوز رومز کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ صحافیوں اور میڈیا منیجرز کے لیے یہ واقعہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اشتہارات پر انحصار، ویج بورڈ کے نفاذ، اور اخراجات میں کمی جیسے اقدامات براہِ راست حوصلے، عملے کی برقراری اور ادارتی خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مالی بحران کے دوران شفاف ابلاغ نیوز روم کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسی حوالے سے تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ڈان ایمپلائز یونین کے صدر،کورٹ رپورٹرز کی تنظیم اور پی ایف یوجے کے صدر افضل بٹ نے مشترکہ طور پر نویں ویج ایوارڈ کے لئے پٹیشن تیار کرلی ہے، جسے جمعہ کے روز (آج) دائر کردیاجائے گا۔۔

اب چلتے ہیں ایک اہم خبر کی جانب۔۔۔میڈیا مالکان کے ذریعے مبینہ منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا ہے۔ ایف آئی اے  نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے  ہم نیوز کے  کمپنی سیکرٹری محسن نعیم کو طلب کرلیا ہے، جب کہ میڈیا ڈیجٹل مارکٹنگ کمپنی زیڈ ٹوسی کے چیف  ایگزیکٹو آفیسر ریحان علی مرچنٹ نے ایف آئی اے کے نوٹس کے جواب میں اپنی لیگل ٹیم کے زریعے ریکارڈ بھیجنا شروع کردیا ہے۔تحقیقات کے مطابق آئی سی سی ورلڈ کپ کے دوران اشتہارات کے لئے مارکٹنگ کمپنی کا دبئی کی کمپنی ٹین اسپورٹس ایف زی ای ایل ایل سی  سے ایک ارب سے زائد کا معاہدہ ہوا، جس کی رقم پاکستان میں ایک کمپنی ٹاور اسپورٹس  کو ہوئی، اور ایک کروڑ یو اے ای درہم حوالہ کے زریعے کئے گئے جو جے ایس بینک کی زمزمہ برانچ میں تقسیم کیاگیا۔

ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے ہم نیوزکے کمپنی سیکرٹری محسن نعیم کو نوٹس کے ذریعے  چار مارچ کو اپنے دفتر واقع سندھ سیکرٹریٹ بلاک چھیاسٹھ میں طلب کیا تھا لیکن  دبئی میں پھنسے ہونے کے باعث وہ ایف آئی اے کے سامنے پیش نہ ہوسکے۔۔۔۔اور ان سے تمام ریکارڈ بھی منگوایا۔۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسی کیس میں ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے زیڈ ٹوسی کے سی ای او ریحان مرچنٹ کو دو نوٹسزجاری کیے تھے جس کے جواب میں انہوں نے اپنی لیگل ٹیم کے زریعے جواب بھیجا ہے، اور اس ریکارڈ کی ایف آئی اے میں چھان بین جاری ہے جبکہ امکان ہے کہ اس ریکارڈ کی روشنی میں مزید میڈیا مالکان اس کیس کی زد میں آسکتے ہیں۔یاد رہے کہ ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے گزشتہ دنوں حوالہ ہنڈی اور ڈالر کی غیر قانونی فروخت کے الزام پر جے ایس بینک کی زمزمہ اسٹریٹ برانچ پر چھاپہ مارا تھا ،  جہاں 15 ہزار ڈالر کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ایریا منیجر جے ایس بینک نعمان رؤف کو دیگر ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ اس کارروائی میں نعمان رؤف کے ذاتی موبائل فون میں زیڈٹوسی کے حوالہ نیٹ ورک کا ڈیٹا موجود تھا، جس کے بعد  تحقیقات کا رخ میڈیا سیکٹر کی طرف مڑ گیا۔

ایف آئی اے نے اس نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات شروع کیں تو ہولناک انکشافات سامنے آئے جس سے ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق میڈیا مالکان کے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کے کام کرنے کا کچھ حصہ اس کیس کی تفتیش میں سامنے آیا ہے جو مجموعی نیٹ ورک کا پانچ فیصد بھی نہیں بتایا جا رہا۔

ایف آئی اے کی تفتیش میں جب زید ٹوسی کی چھان بین شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی ہے جس کا دبئی کی کمپنی ٹین اسپورٹ ایف زی ای ایل ایل سی کےساتھ ایک ارب روپے   سے زائد مالیت کا معاہدہ ہوا، جس میں آئی سی سی ورلڈ کپ کے مقابلوں کے دوران اشتہارات کا ٹائم پاکستان میں دکھانے کیلئے اور اشتہاری کمپنیوں کی خریداری کیلئے کیاگیا، تحقیقات میں ریکارڈ کی چھان بین ہوئی تو معلوم ہوا کہ فورم مال کی چوتھی منزل پر قائم زیڈ ٹوسی کمپنی رجسٹرڈ ہے اس اسی دفتر کے نام پر اور کمپنیوں کی بھی رجسٹریشن موجود ہے، ذرائع کے مطابق زیڈٹوسی نے معاہدہ  ٹین اسپورٹس ایف زی ای ایل ایل سی کے ساتھ کیا اور دبئی کی اس کمپنی کو ہم نیوز کی انتظامیہ غیراعلانیہ تسلیم کرتی ہے، جس وقت یہ معاہدہ ہوا اس وقت ٹین اسپورٹ نے زیڈ ٹو سی کو کہا کہ مطلوبہ رقیم پاکستان میں موجود ان کی کمپنی ٹاور اسپورٹس کو دے دی جائے اور یہاں سے اصل کھیل شروع ہوا، تحقیقات کے مطابق ہم نیوز اور جے ایس بینک نے زیڈٹوسی کی مدد سے اسے ڈیزائن کیا اور ایک کروڑ درہم تک یہ رقم حوالہ کردی، جس پر یہ کیس درج کیاگیا۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق نعمان رؤف کے موبائل فون سے ملنے والے ڈیٹا کی بنیاد پر جب زیڈ ٹوسی کےدفتر پر چھاپہ ماراگیا تو وہاں سے کمپنی کے چیف فنانس افسر فیصل الیاس کو گرفتار کیاگیا اور ان کے ذاتی استعمال میں موجود موبائل فون اور لیپ ٹاپ قبضے میں لے کر فرانزک کیلئے بھیج دیاگیا۔ منی لانڈرنگ کی اس تحقیقات میں زیڈٹوسی کمپنی پر چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ سے جے ایس بینک کے ذیرعے حوالہ اور ڈالر کی غیرقانونی فروخت کا ایک نیا نیٹ ورک سامنے آیا ہے، جس میں رائیڈر سری لنکا،نیپال، دبئی اور سنگاپور کے موبائل نمبرز استعمال کرتے  ہیں۔ جب کہ ان رائیڈرز کے استعمال میں پاکستانی نمبر موجود نہیں ہیں۔ ان کی تلاش جاری ہے اور ممکن ہے کہ جو نام لیپ ٹاپ سے ملے وہ ڈمی نام ہوں، لیکن ان نمبروں پر کال اور میسجز گفتگو موجود ہے۔

ریکارڈ کے مطابق  جب کمپنی کو رقیم کی منتقلی کرنا ہوتی ہے تو ہم نیوزکے سیکرٹری محسن نعیم جے ایس سے رابطہ کرتے ہیں،پھر فرحان عرف راجو نامی رائیڈر جس کے زیراستعمال سری لنکا، سنگاپور،نیپال کی موبائل سمیں ہیں یا بلال عرف منجو جس کے زیراستعمال دبئی کی سمیں ہیں وہ آتا ہے اور رقم لے کر ڈیلیوری کرنے چلاجاتا ہے، یوں یہ نیٹ ورک  خاموشی سے گزشتہ تین برس سے کام کر رہا ہے، جب کہ اب تک سامنے آنے والا ریکارڈ صرف رائیڈر کے میسجز کی بنیاد پر ہے اور دیگر کمپنیوں کے ریکارڈ کی چھان بین پر مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے کہ اور کتنے برس سے یہ کام جاری ہے۔ اسی طرح تحقیقات میں زیڈٹوسی کی پاکستان میں موجود ڈمی کمپنی ٹاور اسپورٹس کے ذریعے کے اکاؤنٹس میں محسن اور زیڈٹوسسی کے چیف فنانس افسر فیصل الیاس رقوم منتقل کرتے رہے، اس تحقیقات میں ایک ارب روپے مالیت کی رقوم غیرقانونی طریقے سے ٹین اسپورٹس ایف زی ای ایل ایل سی کے اکاؤنٹس کے بجائے پاکستان میں مختلف کمپنیوں کے اکاؤنٹس اور غیرملکی سمز استعمال کرنے والے رائیڈرز کے ذریعے تقسیم ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔  اب تحقیقات ہونا باقی ہے کہ ماضی میں یہ معاہدے کب ہوئے، ان کی رقوم کیسے اور کن اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی، جس کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریکارڈ ملنے کے بعد مزید تفتیش کا دائرہ بڑھایا جائے گا اور اس مبینہ اربوں روپے کے منی لانڈرنگ اسکینڈل میں مزید بڑے نام سامنے آنے کا امکان ہے۔ ایف آئی اے میں چلنے والی اس تحقیقات سے متعلق کسی نیوز چینل پر کوئی خبر نہیں دی جارہی۔۔کیوں کہ معاملہ پیٹی بھائیوں کا ہے۔۔ ایف آئی اے  کے معاملات پر دسترس رکھنے والے ایک سینئر رپورٹر سے جب ہم نے اس کیس سے متعلق ڈسکس کیا تو انہوں نے اس پوری خبر کی تصدیق کے ساتھ ہی یہ انکشاف بھی کیا کہ اس کیس کا رخ دیگر میڈیا مالکان یا میڈیا ہاؤسز کی جانب بھی جاسکتا ہے۔۔اگر تفتیش ٹھیک طرح سے ہوئی تو کئی بڑے راز کھلیں گے اور کئی بڑے ناموں پر انگلی اٹھے گی۔۔

اب ایک چھوٹی سی خبر لاہور کے ایک چینل کی۔۔اے جی این چینل  کے حوالے سے بدھ کی رات یہ انکشاف ہوا کہ اس کے مالک کو وہاڑی پولیس نے حراست میں لے لیا۔۔ جب اس الزام اور خبر سے متعلق تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ ۔۔سی ای او بلال اشرف نے پچھلے ہفتے لاہور میں پرچی سسٹم کو حکومت نرخ نامے کے مطابق کر دیا تھا جس پر بیوپاری حضرات نے سکھ اور سکون کا سانس لیا مگر اس  ہفتے  وہی بدمعاشی پھر سے شروع ہوئی ہزار روپے فی جانور کے وصول کئے گئے۔ایک گاڑی کا تیس ہزار وصول کیاگیا آنے جانے کا۔۔جب کہ یہ ٹیکس صرف سات ہزار روپے ہے۔۔پنجاب میں مختلف مقامات پر مویشی منڈیوں کے ٹھیکے لینے والے، پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور ایم پی اے امبرین اسماعیل کے شوہر حاجی اسماعیل کے خلاف اوورچارجنگ کا معاملہ بالآخر سنگین صورت اختیار کر گیا۔بار بار عوامی شکایات، ٹھوس ثبوت اور کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت کے الزامات سامنے آنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر وہاڑی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے حاجی اسماعیل کو پولیس  کے ذریعے حراست میں لے لیا، لیکن بعدازاں انہیں رہا کردیاگیا۔۔اسٹنٹ کمشنر وہاڑی کا یہ  اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت ہو تو قانون سب کے لیے برابر ہو سکتا ہے۔ سرکاری نرخوں سے تجاوز، غریب بیوپاریوں اور شہریوں کا استحصال، اور بااثر افراد کی پشت پناہی کے ذریعے من مانے ریٹس وصول کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔مویشی منڈیوں میں اوورچارجنگ صرف مالی زیادتی نہیں بلکہ عوامی اعتماد پر حملہ ہے۔ اگر واقعی قانون کی عملداری قائم کرنی ہے تو اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا، نہ کہ وقتی کارروائی پر معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے۔عوام دیکھ رہی ہے — کیا احتساب صرف کمزوروں کے لیے ہے یا بااثر کیلئے۔۔

مقتول صحافی ارشد شریف کے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ارشد شریف شہید کی بیوہ جویریہ صدیق کے مطابق ارشد شریف کا کیس  کینیا کی سپریم کورٹ میں گیارہ مارچ کو سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ جویریہ صدیق نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ، وفاقی آئینی عدالت  کی جانب سے  ازخود نوٹس کی کارروائی ختم کیے جانے کے بعد کینیا کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت مقرر ہونا انصاف کے حصول کی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ارشد شریف، جو ایک معروف تحقیقاتی صحافی تھے، بغاوت کے مقدمات اور اپنی رپورٹنگ سے جڑی دھمکیوں کے باعث پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے تھے۔ انہیں 23 اکتوبر 2022 کو نیروبی کے قریب  کینیا کی پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بعد ازاں کینیا کی ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں  قرار دیا تھا کہ ارشد شریف کا قتل غیر قانونی اور غیر آئینی تھا، تاہم اس کیس میں اب تک کسی کو فوجداری طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکا۔جویریہ صدیقہ کے مطابق 11 مارچ کی سماعت اس کیس کے عدالتی جائزے کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرے گی۔ ان کی قانونی ٹیم کینیا میں واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اس سے قبل پاکستان اور کینیا دونوں میں عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور محدود پیش رفت پر مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق کینیا کی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقتول صحافی کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مسلسل قانونی کوششیں اس معاملے کو آگے بڑھا رہی ہیں تاکہ پہلے سے دیے گئے عدالتی فیصلوں کو عملی کارروائی میں تبدیل کیا جا سکے۔ارشد شریف کا قتل عالمی سطح پر صحافتی آزادی اور ریاستی جوابدہی کے حوالے سے اہم بحث کا باعث بنا تھا۔ پاکستانی صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کے نزدیک کینیا میں سپریم کورٹ کی سماعت اس بات کی علامت ہے کہ میڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم میں انصاف کے حصول کے لیے بعض اوقات سرحد پار قانونی راستے بھی اختیار کرنا پڑتے ہیں۔

ابتک نیوز اسلام آباد بیورو سے 8 ملازمین کو برطرف کردیاگیا، پپو کے مطابق برطرف ہونے والوں میں دو این ایل ای، دو ڈرائیور، دو کیمرہ مین اور دو اسٹورملازمین شامل ہیں۔۔انہیں مہینہ شروع ہوتے ہی نکالا گیا، برطرفی کے لیٹرز پر اٹھائیس فروری کی تاریخ درج ہے۔المیہ یہ ہے کہ ان لیٹرز پر لکھا ہے کہ این ایل ای اور کیمرہ مین کا شعبہ ختم کیا جارہا ہے اس لئے انہیں نکالا جارہا ہے۔نکالے گئے تمام ملازمین کو نوٹس پیریڈ سے بھی مستثنی قرار دیا گیا۔۔یعنی ان کی فوری برطرفی عمل میں لائی گئی ہے۔۔اسی طرح کی اطلاعات فیصل آباد سے بھی موصول ہوئی ہیں۔۔

نوٹ:  یہ بلاگ عرصہ دس سال سے پڑھا جارہا ہے، میڈیا انڈسٹری کے سب سے مقبول اس سلسلے میں دی گئی مخبریاں کافی چھان پھٹک  کے بعد دی جاتی ہیں، پھر بھی اگر کوئی متاثرہ فریق یہ سمجھتا ہے کہ اس بلاگ میں اس کے خلاف لکھ کر زیادتی کی گئی ہے تو وہ  ہم سے رابطہ کرکے اپنا موقف دے سکتا ہے، ہم اگلے سینہ بہ سینہ میں اس کا موقف لازمی دیں گے۔۔ ہم دانستہ یا ناداستہ کبھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ ہماری تحریر سے کسی کو تکلیف پہنچے، ہمارا مقصد صرف اور صرف  میڈیا  ورکرز اور صحافیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی،ظلم اور ناانصافی کو سامنے لانا ہے جب کہ میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں اور کرپٹ و نااہل عناصر کو بے نقاب کرنا  بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے،واضح رہے کہ یہ میڈیا انسائٹس کے حوالے سے ایک بلاگ ہے،جسے “خبریانیوز” نہ سمجھا جائے،  (علی عمران جونیئر۔۔)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں