خصوصی رپورٹ۔۔
پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش خطرات سے متعلق فریڈم نیٹ ورک کی تازہ ماہانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ستمبر 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف دھمکیوں، قانونی کارروائیوں اور مبینہ ہراسانی کے پانچ واقعات دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے تین کا تعلق قانونی کارروائیوں اور سائبر کرائم تحقیقات سے تھا۔
10 اکتوبر کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ واقعات اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال اور ملتان میں پیش آئے۔ فریڈم نیٹ ورک نے چار واقعات میں ریاستی اداروں یا اہلکاروں جبکہ ایک واقعے میں غیر ریاستی عناصر کے کردار کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر آٹھ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صحافی اور یوٹیوب تبصرہ نگار محمد بلال غوری کے خلاف 5 ستمبر کو ایک فوجی افسر کی سول عہدے پر تعیناتی سے متعلق تبصرے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا۔بلال غوری کو 6 ستمبر کو حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں جسمانی ریمانڈ کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور بعدازاں جوڈیشل حراست میں بھیج دیا گیا۔16 ستمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ان کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کردیا جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافی اور وی لاگر اسد علی طور کو 15 ستمبر کو این سی سی آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا، جس میں انہیں اگلے روز راولپنڈی سائبر کرائم سرکل کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔یہ انکوائری پیکا کی دفعہ 26 اے کے تحت شروع کی گئی تھی اور اس کا تعلق اسد طور کے ان دعوؤں سے تھا جن میں انہوں نے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے مبینہ طور پر رات گئے اڈیالہ جیل جانے اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کا ذکر کیا تھا۔اسد طور نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں انکوائری کی بنیاد بننے والے مواد کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث انہوں نے متعلقہ ادارے سے وضاحت طلب کی۔رپورٹ کے مطابق طلبی نوٹس میں عدم پیشی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا تھا۔فریڈم نیٹ ورک نے اسد طور کے خلاف جولائی میں ہونے والی ایک علیحدہ انکوائری کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ ادارے کو انکوائری کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چکوال میں این سی سی آئی اے نے 22 ستمبر کو صحافی نبیل انور ڈھکو، قاضی وسیم جہانگیر اور سمندر خان کو ایک شکایت پر طلب کیا۔یہ شکایت گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین کی پرنسپل پروفیسر مہناز اختر کی جانب سے درج کرائی گئی تھی۔پرنسپل نے الزام عائد کیا کہ صحافیوں نے کالج میں مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کے تنازع سے متعلق غلط خبریں شائع کیں، جس سے ان کی ذاتی اور ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی۔دوسری جانب صحافیوں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ ان کی خبریں ایک سرکاری انکوائری پر مبنی تھیں، جو کالج کی 36 میں سے 32 خواتین اساتذہ کی جانب سے ایک کلرک کے مبینہ رویے اور دھمکیوں سے متعلق شکایات کے بعد کی گئی تھی۔صحافیوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ تحقیقات کے دوران ان کے موبائل فون ضبط کیے جاسکتے ہیں، جن میں خفیہ ذرائع سے ہونے والی گفتگو، غیر شائع شدہ صحافتی مواد اور ذاتی معلومات موجود ہیں۔فریڈم نیٹ ورک کے مطابق جائزہ لیے گئے ریکارڈ میں ان تینوں صحافیوں کے خلاف کسی غلط اقدام کا حتمی ثبوت یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ میں بول نیوز کی اینکر ابصاکومل کی مبینہ برطرفی کے معاملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ابصا کومل نے 14 ستمبر کو اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر صحافیوں کی بھوک ہڑتالی سرگرمی کے دوران میڈیا ورکرز کو درپیش معاشی مشکلات، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمتوں سے برطرفیوں اور بالخصوص نوجوان اور کم تنخواہ پانے والے صحافیوں کے مالی عدم تحفظ پر اظہار خیال کیا تھا۔ان کے اس بیان کے بعد میڈیا کے بعض حلقوں میں ان کی ملازمت سے مبینہ علیحدگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جن پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا ان کے خلاف کارروائی کا تعلق ان کی تقریر سے تھا۔تاہم فریڈم نیٹ ورک نے واضح کیا کہ رپورٹ میں زیر جائزہ مواد کے مطابق نہ تو ابصا کومل اور نہ ہی بول نیوز کی جانب سے ان کی باضابطہ برطرفی یا اس کی وجہ کی عوامی سطح پر تصدیق کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق 16 ستمبر تک بول نیوز کی ویب سائٹ پر ابصا کومل کا پروگرام موجود تھا۔ اس لیے ان کی مبینہ برطرفی اور تقریر کے درمیان تعلق کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ملتان میں 20 ستمبر کو شہباز شریف اسپتال میں انسداد پولیو مہم سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران رپورٹر حسیب اعوان اور کیمرہ مین سید تنویر گیلانی کو مبینہ دھمکیوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر تنزیل نے ایک سوال پوچھنے پر حسیب اعوان کو مبینہ طور پر دھمکانے کی کوشش کی۔اسی دوران سیکیورٹی گارڈز نے مبینہ طور پر کیمرہ مین سید تنویر گیلانی سے کیمرہ چھیننے اور ریکارڈ شدہ ویڈیو حذف کرنے کی کوشش کی۔واقعے کے بعد مقامی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں نے تحقیقات اور متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی معطلی کا مطالبہ کیا۔تاہم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ ریکارڈ شدہ فوٹیج واقعی حذف کی گئی تھی یا مطالبات پر کوئی حتمی کارروائی عمل میں آئی۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران سامنے آنے والے واقعات صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر مختلف نوعیت کے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں فوجداری مقدمات، سائبر کرائم اداروں کے طلبی نوٹس، صحافتی مواد میں مبینہ مداخلت اور ملازمت سے متعلق غیر یقینی صورت حال شامل ہیں۔تاہم رپورٹ میں یہ امتیاز بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہر واقعے میں الزامات ثابت نہیں ہوئے، نہ ہی تمام معاملات باقاعدہ مقدمات یا تصدیق شدہ برطرفیوں پر منتج ہوئے۔فریڈم نیٹ ورک نے یہ واقعات اپنے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک کے ذریعے ریکارڈ کیے ہیں، جو 2016 سے مختلف پریس کلبوں کے اشتراک سے صحافیوں کے تحفظ اور انہیں درپیش خطرات کی دستاویز بندی پر کام کر رہا ہے۔تنظیم کے مطابق ستمبر 2026 میں سامنے آنے والے پانچ واقعات اس کے نگرانی اور دستاویز بندی کے نظام میں رپورٹ ہونے والے کیسز ہیں، انہیں ملک بھر میں صحافیوں کو درپیش تمام خطرات کی مکمل تعداد تصور نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹ میں سامنے آنے والے معاملات صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں، ادارہ جاتی دباؤ، مبینہ ہراسانی اور ملازمت کے عدم تحفظ جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ ان واقعات میں عائد کیے گئے الزامات کی حتمی قانونی حیثیت اور متعلقہ اداروں کی کارروائیوں کے نتائج الگ سے طے ہونا باقی ہیں۔
9