صحافیوں پر تشدد اور لوٹ مار میں ملوث چار ملزمان گرفتار۔۔۔ 24

صحافیوں پر تشدد اور لوٹ مار میں ملوث چار ملزمان گرفتار۔۔۔

حافظ آباد میں نجی ٹی وی چینلز کے نمائندوں پر مبینہ تشدد اور لوٹ مار کے واقعے میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے چار مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل حافظ آباد میں نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں شوکت علی وٹو اور لیاقت علی وٹو پر مبینہ طور پر 20 سے زائد افراد نے حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور لوٹ مار کی۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے ایک خبر نشر کرنے کی رنجش پر صحافیوں کو نشانہ بنایا۔متاثرہ صحافیوں میں ڈسٹرکٹ پریس کلب حافظ آباد کے جنرل سیکرٹری شوکت علی وٹو اور ایگزیکٹو کونسل کے رکن لیاقت علی وٹو شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال حافظ آباد کے باہر پیش آیا، جہاں مبینہ حملہ آوروں نے دونوں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی گئی، جس کے بعد چار مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کی جارہی ہے، جبکہ دیگر نامزد افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ بعض دیگر ملزمان نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری بھی حاصل کر رکھی ہے۔واقعے کے بعد صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے سرپرست اعلیٰ ایڈووکیٹ واصف سایہ، بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد، غلام مہدی اور دیگر عہدیداروں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حافظ آباد فواد احمد نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور صحافیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے گی اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ڈی پی او فواد احمد نے یقین دہانی کرائی کہ دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں