صحافیوں کو تیسر ٹاون میں تعمیرات کی اجازت۔۔

کراچی پریس کلب کے زیر اہتمام پیرکوملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ایم ڈی اے) کے حکام کے ہمراہ ملیرتیسر ٹائون اسکیم 45 جرنلسٹس سوسائٹی کا دورہ کیا۔اس موقع پرملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پروجیکٹ دائریکٹر حسنین ایوب صدیقی اور جاوید حسین نے کراچی پریس کلب کے ارکان کو ملیرتیسر ٹائون کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ایم ڈی اے کے حسنین ایوب صدیقی نے صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کراچی پریس کلب کے ا رکان کو ایم ڈی اے تیسر ٹائون بلاک 22 اور 23 میں تعمیرات کی اجازت دے دی ہے۔ کراچی پریس کلب کے وہ ارکان جن کے پلاٹ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تیسر ٹائون اسکیم 45 بلاک 22 اور 23میں ہیں اور ان کے تمام دستاویزات اور چالان مکمل کردیئے ہیںوہ قبضہ لے کر اپنے پلاٹوں پر تعمیرات شروع کرسکتے ہیں ان کی سہولت کے لئے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سائٹ آفس میں افسران اور اہلکارموجود ہونگے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قر یب میں کراچی کی زیادہ ترآبادی ملیرتیسرٹائون میں منتقل ہو جا ئے گی۔ایم ڈی اے میں مختلف یوٹیلیٹی اداروں کے ساتھ سروسز کی فراہمی کے لیے بات چیت جاری ہے جبکہ سیوریج اوربرساتی پانی کی نکاسی کا سسٹم مو جود ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے میں دیگر ہائوسنگ اسکیم کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنے مکانات کے تعمیرات کا آغاز کر دیا ہے۔جبکہ اس کے اطراف میں مو جود رہائشی اسکیموں پرتیزی سے کام جا ری ہے۔ملیرتیسر ٹائون کا دورہ کرنے والوں میں کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی کے رکن اور ایم ڈی اے کمیٹی کے سیکرٹری لیاقت مغل،عاصم بھٹی،ایس ایم امین شاہ عبدالرحمن،منیر عقیل انصاری،مظہررضا،شیر افضل خان،اختر شیخ،محی الدین،ذولفقار ببر، غلام مصطفی ،ساجد علی ساجد، مقصودبھٹی،سید یوسف علی،منصور احمد،غافرالزماں،نذیر عالم،عابد علی،راشد خان سمیت دیگرشامل تھے۔آخر میں ایم ڈی اے کے افسران نے کراچی پریس کلب کے اراکین کو ملیرتیسرٹائون کے بلاک 22 اور23 کا تفصیلی دورہ بھی کروایا اور نقشے کی مدد سے صحا فیوں کو ان کے پلاٹوں کے حوالے سے معلومات فراہم کیں ہیں۔پروجیکٹ ڈائریکٹرحسنین ایوب صدیقی نے صحافیوں کے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ تیسرٹان ایم ڈی اے اسکیم 45 میں صحافیوں کوسیکٹر22 اور23 میں 240 گزکے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں جہاں فراہمی ونکاسی آب کا سسٹم مکمل ہوچکا ہے جبکہ بہت جلد کے الیکٹرک کی طرف سے بجلی کی فراہمی سے متعلق اقدامات بھی متوقع ہیں۔صحافیوں کے استفسارپرحسنین ایوب صدیقی نے بتایا کہ تیسرٹائون اسکیم 45 کے جن سیکٹرز میں صحافیوں کے پلاٹ ہیں وہاں قبضہ یا پلاٹس پرکسی کا کوئی دعوی نہیں ہے،اعلی حکام کی ہدایت پرصحافیوں کوانتہائی اہم لوکیشن پرپلاٹس فراہم کیے گئے جن کی نگرانی بھی کی جاتی ہے اورتیسرٹائون کا عملہ صحافیوں کے پلاٹس سمیت پورے تیسرٹائون کے الاٹیزکے پلاٹس کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت چوکس ہے۔ایک سوال کے جواب میں پروجیکٹ ڈائریکٹرکا کہنا تھا کہ حکومت سندھ اوراتھارٹی کے ساتھ طے کردہ شرائط کے مطابق رقم کی ادائیگی کے بعد صحافیوں کوان کے پلاٹس کا قبضہ دینے کے لیے تیارہیں ۔ صحافیوں کی تجویز پرسیکٹر22 اور23 میں جہاں صحافیوں کے پلاٹس موجود ہیں وہاں جرنلسٹ کالونی کا سائن بورڈ آویزاں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پریس کلب سے جانے والے صحافیوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹرکی بریفنگ پراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے اس امرپرخوشی کا اظہارکیا کہ انہیں فراہم کیے جانے والے پلاٹس اچھی لوکیش پرواقع ہیں جبکہ اس دورے کے بعد پلاٹس پرقبضہ ہونے یا دیگرشکوک وشبہات کا ازالہ ہوا ہے۔صحافیوں نے پلاٹس کے دورے کا اہتمام کرنے پرکراچی پریس کلب کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہارکیا کہ پریس کلب انتظامیہ پلاٹس کی الاٹمنٹ سمیت دیگرامورکی بروقت تکمیل میں اپنا کلیدی کرداراداکرے گی۔اراکین پریس کلب نے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ،سیکرٹری بلدیات، ہائوسنگ و ٹائون پلاننگ سندھ نجم احمد شاہ،ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو ،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان،کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران،سیکرٹری ارمان صابر،جوائنٹ سیکرٹری ثاقب صغیر،گورننگ باڈی کے رکن لیاقت مغل سمیت دیگر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تیسر ٹائون اسکیم 45 کا دورہ ان تمام لوگوں کو کوششوں سے ہوا ہے اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ صحافیوں کو ہاکس بے، ملیر اور تیسر ٹائون کے پلاٹس پر گھر بنانے کے لیے آسان شرائط پر قرض کا حصول ممکن ہوگیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے تحت بینکوں نے گھر بنانے کے لیے دیئے جانے والے قرضوں کی شرائط کو آسان بنا دیا ہے اور اب شریعہ بینکنگ کے تحت دستیاب ہوں گے،جن کی واپسی پر 5 فیصد زاید رقم دینا ہو گی۔بینکوں کی اس اسکیم سے کراچی پریس کلب کے اراکین بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں