اسلام آبادہائیکورٹ نے صحافی فخر درانی کو ہراساں کیے جانے کے خلاف کیس میں وفاقی حکومت سمیت فریقین سے دوبارہ جواب طلب کر لیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی فخر درانی کو ہراساں کیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریاستی اداروں کو جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز کے انوسٹی گیٹو جرنلسٹ فخر درانی کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ مبینہ طور پر پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ کا غلط استعمال ہو رہا ہے ، اگر تاثر بھی ہو کہ صحافیوں پر قدغن ہے تو وہ بھی اچھی بات نہیں ، ریاست کو خود سامنے آ کر اس تاثر کو زائل کرنا چاہئے۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی فخر درانی کو ہراساں کئے جانے کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لئے مزیدوقت دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بار بار درخواستیں آ رہی ہیں ،صحافیوں کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ صحافی کا تو کام ہی چیزوں کو سامنے لانا ہے ، صحافی کو کیوں خوف ہو یا اس طرح کا تاثر پایا جائے کہ ان کو ڈرایا جاتا ہے۔ جو صحافی لوگوں کو معلومات دیتے ہیں ان کے حوالے سے خوف کا اندیشہ ہی کیوں ہو؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل ریاست کی طرف سے عدالت کو مطمئن کریں۔ کسی صحافی کو خبر دینے اور معلومات پھیلانے پر خوف کیوں ہو؟ جمہوری ممالک میں ان چیزوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں ایک صحافی کو خبر دینے پر ڈرایا گیا ، بتایا جائے جن وزیروں نے ٹی وی پروگراموں میں یہ کہا ،ان کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟بعد ازاں عدالت نے وفاق کو جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

