صحافتی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس صدر کراچی پرس کلب امتیاز خان فاران کی زیر صدارت کراچی پریس کلب میں ہوا جسمیں کے یو جیز کے علاوہ کرائمز رپورٹر ایسوسی ایشن،کورٹ رپورٹر ایسوسی ایشنز، سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن سندھ،پاکستان ایسوسی ایشن آف پریس فوٹو گرافر ذ، ایسوسی ایشن آف کیمرہ جرنلسٹس کے نمائندوں اشرف خان ،رضوان بھٹی،عاجز جمالی، احمد ملک،طارق ابوالحسن، طحہ عبیدی ، عباس مہدی، رانا لیاقت،شوکت کورائی،زبیر نزیر خان، آصف خان، راجہ کامران ، ثاقب صغیر، لیاقت مغل،عبدالجبار ناصر، سہیل شبیر، نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور متعلقہ اداروں کے حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کی بازیابی سے مسئلہ حل نہیں ہوا،ہمیں بتایا جائے کہ علی عمران کے اغواء،میں کون ملوث ہے اور کس کے ایماء پر یہ کیا گیا،علی عمران کے اغواہ کی تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صحافیوں کی جبری برطرفیوں، گمشدگیوں، تنخواہوں میں کٹوتی، تنخواھوں کی عدم ادائیگیوں, سائیبر کرائم ایکٹ کے غلط استعمال کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے عدالت عالیہ میں مشترکہ درخواست فائل کی جائے گی ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایکشن کیمٹی میں ایسوسی ایشنز کو بھی شامل کیا جائے گا اور صحافی مزدور کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا صحافیوں کے مسائل پر تحریک شروع کی جائے گی۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت صحافیوں سے کئے گئے وعدے پورا کرے۔۔۔

