پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ جرنلسٹس کونسل کے صدر غازی جھنڈیر نے کورونا سے متاثر صحافیوں کی حکومتی سطح پر امداد اور سندھ میں صحافیوں پر جعلی مقدمات سمیت پولیس تشدد کے واقعات کی تفصیلات پیش کی ۔۔غازی جھنڈیر نے پی پی چیئرمین سے سوال میں کہا کہ کورونا وائرس کے دوران صحافی بھی فرنٹ لائن پر کام کررہے ہیں جنہیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے کرونا وائرس سے شہید اور بیمار ہونے والے صحافیوں کی داد رسی کی جائے۔جرنلٹس کونسل کے صدر کی حیثیت میں غازی جھنڈیر نے بلاول بھٹو زرداری کی توجہ مبذول کراتے ہوے کہا کہ سندھ پولیس کی جانب سے مسلسل صحافیوں کو جعلی مقدمات میں ملوث اور تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کا جواب میں کہنا تھاکہ انہیں سندھ میں صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے پر شدید تشویش ہے حیران کن بات ہے کہ سندھ میں صحافیوں کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت سب سے زیادہ مقدمات قائم کیئے گئے۔۔بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ کو ہدایت کی کہ صحافیوں کے خلاف درج تمام مقدمات کی شفاف انکوائری کرائی جائے اور جھوٹے مقدمات کے تسلسل کو روکا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عزیز میمن قتل میں کچھ ملزمان گرفتار ہوئے ہیں لیکن ہم مرکزی ملزم کی گرفتاری اور قتل کیس کے آخری پوائنٹ تک پہنچنے سے پہلے مطئمن نہیں ہونگے، بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ صحافی عزیز میمن کے قتل کا الزام پاکستان پیپلز پارٹی پر لگانے کی کوشش کی گئی لیکن اب حقائق سامنے آرہے ہیں۔بلاول بھٹو نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو ہدایت دی کہ سندھ پبلک سیفٹی اور پولیس کمپلینڈ کمیشن میں قانون سازی کرکے ایک صحافی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ صحافیوں کے خلاف جعلی مقدمات کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ۔۔سندھ حکومت صحافیوں کے معاشی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوے ایسا میکنزم بنارہی ہے جس سے رقم براہ راست انکے اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحافی بڑی بہادری سے تمام مسائل اجاگر کرتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی آزادئ صحافت کی قائل ہے اور صحافیوں کے خلاف کسی بھی انتقامی کارروائی کو قبول نہیں کرتی ۔
صحافیوں کے اکاؤنٹس میں براہ رست رقم کی منتقلی کے میکنزم پرغور۔۔
Facebook Comments
