نوشہرو فیروز کے علاقے محراب پور میں چار ماہ قبل قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن کے کیس کا حتمی چالان کنڈیارو کے سول جج کی عدالت میں جمع کرا دیا گیا۔ چالان میں گرفتار کیمرہ مین اویس قریشی کو بے قصور قرار دیا گیا۔پولیس نے حتمی چالان ا کنڈیارو کے تھرڈ سول جج کی عدالت میں پیش کیا۔حتمی چالان میں پولیس نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار کیمرا مین بے قصور ہے جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس نے عدالت کے روبرو 2 مرکزی ملزمان مشتا ق سہتو اور افسد سہتو کو روپوش قرار دیا۔صحافی عزیز میمن کی لاش16فروری کو محراب پور میں نہر سےملی تھی۔ پورٹ مارٹم رپورٹ میں عزیز میمن کی موت دم گھٹنے کے باعث بتائی گئی تھی۔ ملک بھر میں صحافیوں کے احتجاج کے بعد پہلے آر پی او ولی اللہ دل بعد میں اے آئی جی غلام نبی میمن کی سربراہی میں جی آئی ٹی بنائی گئی ساڑھے چار ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود پولیس نے مرکزی ملزم مشتاق سہتو اور افسد سہتو کی گرفتاری کے بغیر عدالت میں چالان پیش کیا صحافی عزیز میمن کے قتل میں مرکزی ملزمان گرفتار نہ ہونے پرصحافیوں اور عزیز میمن کے رشتہ داروں میں مایوسی پھیل گئی۔

