masjid wazeer khan case | Fankaron ki bariat ki darkhuast mistrad

صباقمر،بلال سعید کے خلاف مقدمے کیلئے درخواست۔۔

مسجد وزیرخان میں گانے کی ویڈیو شوٹ کرنے پراداکارہ صبا قمر ،گلوکاربلال سعید اوروالڈسٹی کوقانونی نوٹس بھجوا دیا گیا۔۔تفصیلات کے مطابق  تاریخی مسجد  وزیرخان میں گانے کی ریکارڈنگ کی ویڈیو وائرل ہونے پر جہاں سماجی اورمذہبی حلقوں کی طرف سے اس اقدام کی شدیدمذمت کی جارہی ہے وہیں صوبائی وزیراوقاف نے مسجد وزیرخان گانے کی عکس بندی کانوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری اوقاف کو متعلقہ اہلکاروں کومعطل کرنے کا حکم دیا ہے۔سوشل میڈیا میں اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے گانے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ گانے کی عکس بندی تاریخی مسجد وزیرخان میں کی گئی ہے جس میں مسجد کے تقدس کوپامال کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق محکمہ اوقاف پنجاب نے نجی پروڈکشن ہاؤس کو مشروط طورپر مسجد میں ریکارڈنگ کی اجازت دی تھی۔ ان شرائط میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسجد میں کوئی بھی ایساکام نہیں کیا جائے گا جس سے مسجد کا تقدس پامال ہو۔ محکمہ اوقاف کی طرف سے بادشاہی مسجد، مسجد وزیرخان سمیت دیگرمساجد میں شادی بیاہ کی کمرشل فوٹو گرافی پر بھی پابندی عائد ہے۔ اوقاف ذرائع کے مطابق نجی پروڈکشن ہاؤس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں گانے کی ریکارڈنگ کی ہے۔مسجد میں گانے کی عکس بندی کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد مذہبی حلقوں کی طرف سے اس اقدام کی سخت مذمت کی جارہی ہے۔متحدہ علما بورڈ پنجاب کے چیئرمین حافظ طاہرمحمود اشرفی نے مطالبہ کیا ہے کہ مساجد میں کمرشل ویڈیو اورفوٹوگرافی پرپابندی عائد کی جائے۔علامہ زبیراحمد ظہیر نے کہا ہے اللہ کے گھر کی بیحرمتی اوراس گھرکے تقدس کا خیال نہ رکھنے والوں کیخلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے محکمہ اوقاف نے مسجد جیسے مقدس ادارے میں گانے کی ریکارڈنگ کی اجازت کس طرح دے دی گئی ؟ صارفین نے حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری طرف صوبائی وزیراوقاف پیرسیدسعیدالحسن شاہ نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری اوقاف ڈاکٹرارشاد احمد کو متعلقہ اہل کاروں کو فوری معطل کرنے کا حکم دیا ہے، اورتین دن میں انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔ پیرسید سعید الحسن شاہ کا کہنا ہے ایسے غیر ذمہ درانہ واقعات کو ہر گزبرداشت نہیں کیا جائے گا، مساجد اور مقدس مذہبی مقامات کا تقدس ہر قیمت برقرار رکھا جائے گا۔دوسری جانب بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے وضاحت کی ہے تاریخی مسجد میں صرف نکاح کی تقریب کے مناظر فلمائے گئے اور ان مناظر کے پس منظر میں موسیقی شامل نہیں۔ دونوں فن کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود وہ لوگوں کا دل دکھنے پر معذرت خواہ ہیں۔اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف حسن نامی شہری کی جانب سے تھانہ اقبال ٹاون میں مقدمہ درج کروانے کےلئے درخواست جمع کرائی گئی ہے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ مسجد وزیر خان میں ویڈیو سانگ عکس بند کرایا اور رقص کیا گیا اور مسجد کا تقدس پامال کیا۔مسجد انتظامیہ کی ناک تلے ویڈیو سانگ کی شوٹنگ ہوئی۔ا ن افراد کیخلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔دوسری جانب اینکر پرسن اقرار الحسن نے پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد وزیر خان میں گانے کی شوٹنگ کے معاملے پر بلال سعید اور صبا قمر کی غلطی کو معاف کردیں۔۔ میری گزارش ہے کہ بلال سعیداور صبا قمر کی معذرت قبول کرلینی چاہیئے۔ اپنے وڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا ۔۔ پاکستان جیسے حساس مذہبی معاشرے میں مساجد میں  شادی کی ویڈیو گرافی کی اجازت پر نظرِ ثانی کی بھی ضرورت ہے۔ میرے دوست بلال نے معذرت کر کے میری نظر میں اپنا احترام اور پیار بڑھا لیا ہے۔سلامت رہیں۔دوسری جانب گلوکار بلال سعید نے اپنے ویڈیو پیغام میں قوم سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ بحیثیت مسلمان وہ مسجد کا تقدس پامال کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، ان کی جس ویڈیو پر تنقید کی جارہی ہے وہ دراصل فوٹو شوٹ کیلئے ایک سین تھا ۔بلال سعید نے وضاحت کی کہ مسجد میں نہ تو گانا بجانا ہوا اور نہ ہی ڈانس کیا گیا ، لیکن وہ پھر بھی اللہ کے حضور معافی کے طلبگار ہیں۔خیال رہے کہ گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر نے لاہور کی تاریخی جامع مسجد وزیر خان میں اپنے نئے گانے “قبول” کی شوٹنگ کی تھی جس پر انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا ہے، اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے بھی دونوں فنکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں