خصوصی رپورٹ۔۔
پاکستان میں مقیم امریکی خاتون بلاگر سنتھیا ڈان رچی کا کہنا ہے کہ رحمان ملک نے منسٹرز انکلیو میں ان کا ریپ کیا جس کے بعد 2 ہزار پاؤنڈ کی رقم دی۔ سنتھیا رچی نے نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رحمان ملک نے ورک ویزا کے سلسلے میں منسٹرز انکلیو میں بلایا تھا جہاں نشیلی دوا پلا کر میرا ریپ کیا۔سنتھیا رچی نے کہا کہ وہ اعظم سواتی کی بیٹی کی این جی او میں کام کیا کرتی تھیں، اس وقت اعظم سواتی پی ٹی آئی میں جارہے تھے اس لیے رحمان ملک نے مجھے ان کی این جی او چھوڑنے کا کہا اور مجھے 2 ہزار پاؤنڈ دے کر کہا کہ وہ میرے لیے نئی نوکری تلاش کریں گے ، اس دوران میں اس رقم سے اپنے اخراجات پورے کروں ۔اینکر پرسن محمد مالک نے سوال پوچھا کہ یہ بہت ہی عجیب بات لگتی ہے کہ ایک شخص نے آپ کا ریپ کیا ہو اور آپ اس سے رقم لے رہی ہیں۔ اس سوال پر سنتھیا ڈی رچی نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا کہ میں نے وہ پیسے اپنے ہاتھوں سے اٹھالیے ہوں، بلکہ ان کے ڈرائیور نے یہ تمام چیزیں میرے ساتھ گاڑی میں رکھیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ رقم میرے ساتھ آئی تھی اس لیے مجھے رکھنی پڑی، جو موبائل فون انہوں نے مجھے دیا تھا وہ میری جاسوسی کیلئے استعمال ہوا، وہ 2 ہزار پاؤنڈ کافی عرصے تک میری ٹیبل پر پڑے رہے۔
امریکی خاتون بلاگر سنتھیا رچی کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کے ساتھ پیش آنے والے ریپ کے واقعے پر خوف کی وجہ سے پہلی بات نہیں کی تھی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سنتھیا رچی نے کہا کہ جب میرا ریپ کیا گیا تھا تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مجھے پاکستان آنے کی دعوت بھی پیپلز پارٹی نے ہی دی تھی۔ میں بہت خوفزدہ تھی اس لیے میں نے اس معاملے کو رپورٹ نہیں کیا۔سنتھیا رچی نے بتایا کہ ان کی والدہ ایک بیوہ خاتون تھیں جو ان کے پاکستان آنے کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان تھیں، اگر وہ خود کے ساتھ پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بارے میں انہیں بتادیتیں تو یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہوتا، انہیں یہ بھی خدشہ تھا کہ کوئی ان کا یقین نہیں کرے گا، اس لیے وہ اس معاملے پر خاموش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر اب اس لیے بات کی ہے کیونکہ پی پی کے کچھ لوگوں کی جانب سے انہیں ریپ کی دھمکیاں دی گئیں۔ گزشتہ 2 سال سے میں پی پی اور پی ٹی ایم کے تعلقات کی تحقیقات کر رہی ہوں، اس وجہ سے پی پی کے کچھ لوگوں نے مجھے ریپ کی دھمکیاں دیں، میرے پاس وہ میسجز بھی ہیں جن میں پیپلز پارٹی کے لوگوں نے مجھے ریپ کی دھمکیاں دیں، اسی لیے میں نے اب 2011 کے واقعے پر بولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سنتھیا ڈی رچی نے کہا کہ جس وقت اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے جس کی وجہ سے انہیں 2 سال کے ورک ویزہ کے حصول کیلئے وزیر داخلہ کی مدد کی ضرورت تھی۔ ان کی رحمان ملک سے پہچان وزیر صحت کے ذریعے ہوئی تھی۔سنتھیا رچی کے مطابق انہیں رحمان ملک نے ویزا کے بارے میں بات کرنے کیلئے منسٹرز انکلیو میں بلایا ، وہ پاکستان میں نئی نئی آئی تھیں اس لیے انہیں پتا نہیں تھا کہ یہ گھر ہے یا دفتر ہے۔ جب وہ رحمان ملک کے گھر پہنچیں تو انہیں پھولوں کا گلدستہ اور سام سنگ کا مہنگا موبائل فون گفٹ دیا گیا۔مجھے پھولوں کا گلدستہ پیش کیے جانے پر بہت حیرت ہوئی، انہوں نے مجھے ڈرنک پیش کیا، اس دن میں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی ، انہوں نے مجھے بیٹھنے کا بولا اور کہا کہ تمہارے لیے ایک تحفہ ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس تحفے کا میرے ویزا سے کیا لینا دینا ہے۔ہماری ملاقات کے دوران ہی میرا سر چکرانا شروع ہوگیا جس کے بعد مجھے اتنا یاد ہے کہ میں ان کے بیڈ پر تھی۔ جب میں واپس آرہی تھی تواس وقت بھی میرا سر چکرا رہا تھا، ان کے ڈرائیور نے مجھے کپڑے پہننے میں مدد گی اور اس نے مجھے اپنے گھر چھوڑا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سنتھیا ڈی رچی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیر اعظم انہیں ایوان صدر میں ہراساں کیا تھا۔ انہوں نے واقعے کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک پاکستانی امریکن نے ایوان صدر میں بلایا تھا۔ جب میں ایوان صدر گئی تو وہاں 4 افراد تھے ، یقیناً ایوان صدر کے وزیٹنگ لاگ میں میرا نام ضرور ہوگا، یوسف گیلانی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، جب ہم وہاں سے جانے لگے تو انہوں نے مجھے انتہائی نازیبا طریقے سے گلے لگایا۔اس وقت کے وزیر صحت مخدوم شہاب الدین کے بارے میں سنتھیا ڈی رچی نے کہا کہ جب وہ نئی نئی پاکستان آئیں تو یہاں ہر کوئی پروفیشنل لگ رہا تھا، مخدوم شہاب الدین انتہائی دلچسپ انسان تھے۔ جب ہم کسی دورے پر جاتے تو میں بہت انجوائے کرتی تھی، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ انہوں نے میرے کندھے اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، ایسا صرف ایک ہی بار ہوا تھا۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
