ریڈیوپاکستان کو ایک ارب روپے کا شاٹ فال۔۔

  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات  کے اجلاس میں کمیٹی ارکان نے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی سے ملازمین کو نکالنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ کمیٹی کو سیکر ٹری اطلاعات اکبر درانی اور ڈ جی ریڈیو نے آ گاہ کیاکہ وزارت اطلاعات کی  ملازمین کو نکالنے کے معاملہ میں کوئی  بد نیتی شامل نہیں ہے،یہ ری سٹریکچرنگ  کا حصہ ہے ، ریڈیو پاکستان کے749 کنٹریکٹ کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے فارغ کیا گیا ہے، ریڈیو پاکستان کے پاس فنڈز کی شدید قلت ہے اور اس وقت 1ارب  روپے کا شاٹ فال ہے  ، ان کو نکالنا مجبوری ہے، حکومت اگر فنڈز فراہم کرے  تو بہتر ہے اور ملازمین کو ریگولرائز کرنے کا کوئی طریقہ نکالے ، ریڈیو پاکستان کے اربوں کے اثاثے موجود ہیں ، ان سے آمدن حاصل کی جاسکتی ہے۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات  کا اجلاس کمیٹی چیئر مین  سینیٹر فیصل جاوید کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں کمیٹی نے بچوں سے زیادتی سے محفوظ بنانے کے لئے ریڈیو پاکستان کی جانب سے چلائی  گئی آگاہی مہم  کی تعریف کی  ۔ سینیٹر غوث محمد نیازی نے  ریڈیو پاکستان کے 749 کنٹریکٹ ملازمین  کو نوکری سے نکالنے کے معاملہ  اٹھایا،سیکرٹر ی اطلاعات  نے عجیب سا موقف اپناتے ہوئے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ  وزارت کی اس میں کوئی  بد نیتی شامل نہیں ہے، کنٹریکٹ کے ملازمین کو فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے فارغ کیا گیا ہے، ماضی میں سیاسی بنیادوں پر ضرورت سے زائد بھرتیاں کی گئیں، ڈی جی ریڈیو پاکستان  نے کہاکہ ریڈیو پاکستان کے پاس فنڈز کی شدید قلت ہے، اس وقت 1ارب کا شاٹ فال ہے، ٹرانسمیٹرز تبدیل  کرنے کے لئے  رقم موجود نہیں ،  ملازمین کو تنخواہ ادا کرنے کے لئے کوئی فنڈز موجود نہیں ، ان کو نکالنا مجبوری ہے، بعض سٹیشنز کے فونز تک بلز ادا نہ کرنے کی وجہ سے کٹ  گئے ہیں ،پنشن کی مد میں 40 ملین روپے کی کمی ہے،سیکرٹری وزارت اطلاعات نے بتایا کہ  وزارت خزانہ کو فنڈز  کے لئے لکھا ہے  لیکن فنڈز نہیں ملے ، گزشتہ 4ماہ  سے ملازمین کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی، حکومت فنڈز فراہم کرے  تو بہتر ہے اور ملازمین کو ریگولرائز کرنے کا کوئی طریقہ نکالے ،  بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، ریڈیو پاکستان کے اربوں کے اثاثے موجود ہیں ، ان سے آمدن حاصل کی جاسکتی ہے، رخسانہ زبیر ی  نے کہاکہ اگر تنخواہیں روکنی ہیں تو صرف کنٹریکٹ ملازمین کی ہی نہیں سب کی رکنی چاہیے، کیا اداروں سے کنٹریکٹ  ملازمین کو نکال کر ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے،  یہ ملازمین 20سال سے یہاں کام کر رہے ہیں، چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی فضول خرچیاں بند کیں ہیں، اداروں میں اصلاحات لائی جارہی ہیں، کمیٹی نے ریڈیو پاکستان سے  ریونیو میںاضافہ کرنے کے لئے مارکیٹنگ پلان تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں