پشاور ہائیکورٹ نے 18سال قبل وزیرستان میں قبائلی صحافی کو اغوا اور بعد میں قتل کیے جانے سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ ورثاکے حوالے کرنے سے متعلق دائر رٹ پر وفاقی وصوبائی حکومتوں سے جواب مانگ لیا۔ جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے طارق اعوان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست گزار احسان احمد کی رٹ کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست گزار کا بھائی حیات اللہ وزیرستان میں صحافی تھا جسے 5 دسمبر2005 کو اغوا کرکے بعد میں شہید کیا گیا جبکہ اسکی لاش 16جون 2006کو خوشحالی طوری خیل میرعلی سے برآمد کی گئی۔
Facebook Comments
