پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل نے 92 نیوز۔ جی این این اور دیگر اداروں کی انتظامیہ کی طرف سے تنخواہوں میں کٹوتیوں اور کئی کئی ماہ کی تنخواہیں ادا نہ کرنے کے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے عاشورہ محرم الحرام کے بعد بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پہلا مظاہرہ 92 نیوز کے لاہور آفس گرو مانگٹ روڈ کے باہر کیا جائے گا۔پی یو جے کے صدر قمرالزمان بھٹی۔جنرل سیکرٹری خواجہ آفتاب حسن۔سینئر نائب صدر خرم پاشا۔ نائب صدر یوسف عباسی۔ سینئر جوائنٹ سیکرٹری عطیہ زیدی۔ جوائنٹ سیکرٹری نصراللہ ملک۔ خزانچی بدر ظہور چشتی اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں ایسے مالکان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اپنے دیگر کاروباری اداروں کو میڈیا کا سہارا دینے کے تو خواہش مند ہیں مگر انہی میڈیا ورکرز کے حقوق غضب کرنے پربھی تلے بیٹھے ہیں۔اس کی مثال 92 نیوز۔ جی این این۔ ایکسپریس میڈیا گروپ۔پبلک نیوز۔کیپٹل نیوز۔ دن نیوز میڈیا گروپ سمیت دیگر ادارے ہیں۔ پی یو جے کے صدر قمرالزمان بھٹی کا کہنا تھا کہ کہ ابھی حال ہی میں 92 نیوز میڈیا گروپ کے روزنامہ اور ٹی وی چینل میں جس بے دردی سے معمولی تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں بیس فیصد کٹوٹی کی گئی اور پسند نہ پسندکی بنیاد پر چند ہزار تنخواہ لینے والے ملازمین کو نوکری سے نکالا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ 92 نیوز میڈیا گروپ کی انتظامیہ کا ایسے عناصر کے ساتھ گھٹ جوڑ ہے جو ورکر دشمن ہے۔پی یو جے کے صدر قمر بھٹی کا کہنا تھا کہ 92 نیوز میڈیا گروپ کے دیگر کاروباری اداروں میں تو ایسی کوئی تباہ کن صورتحال پیدا نہیں ہوئی ۔ان کے تمام تعلیمی اداروں۔ ہائوسنگ کالونیز اور گھی پروجیکٹ کا کاروبار بڑا بہترین چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آخر معمولی تنخواہ لینے والے معروف پارلیمانی رپورٹر گوہر علی اور خالد ملک کو نوکری سے نکالنے سے کون سا بجٹ کم ہو جانا تھا ۔یقینا یہ اقدام 92 نیوز کی انتظامیہ کا مخصوص گروپ سے گھٹ جوڑ اور گروپنگ کے بغیر کام سے کام رکھنے والے پروفیشنل کو ٹارگٹ کرنے کی بھونڈی کوشش یے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 92 نیوز کی انتظامیہ ان دونوں رپورٹر ز اور نکالےجانے والے دیگر عملے کو بحال کرئے اور تنخواہوں میں کٹوٹی کا اقدام واپس لے ورنہ پی یو جے اس کے خلاف لاہور سمیت پورے پاکستان میں دیگر یوجیز کے ساتھ ملک گیر احتجاجی مظاہرے کرئے گی۔ جس کا آغاز عاشورہ محرم کے بعد 92 نیوز لاہور آفس سے کیا جائے گا ۔پی یو جے کی قیادت نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی وجہ سے مالکان 92 نیوز کٹوتیاں کرنا ناگزیر سمجھتے ہیں تو پھر اخبار میں تو پھر اس کی حد ایک لاکھ اور چینل میں یہ حد ڈیڑھ لاکھ سے زائد تنخواہ پر لاگو کی جائے۔اس سے چند ہزار تنخواہ لینے والے عام ورکرز اور پروفیشنل کے مالی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ گا۔ پی یو جے کے جنرل سیکرٹری آفتاب حسن نے واضح کیا کہ عید قربان کے موقع پر جی این این کی انتظامیہ سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ادارے میں تنخواہوں میں کٹوتیوں اور ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا سلسلہ روکیں مگر جی این این کی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی جبکہ یہی حالات ایکسپریس میڈیا گروپ کے ہیں جہاں رپورٹرز کے ٹرانسپورٹ فنڈ پیٹرول الائونس کو بند کیا گیا ہے جو قابل مذمت ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اپنے وعدے کے مطابق کیپٹل نیوز۔ پبلک نیوز ۔نیوز ون ۔ دن نیوز میڈیا گروپ ۔ڈیلی ٹائمز۔ روزنامہ پاکستان۔ روزنامہ نوائے وقت۔روزنامہ امت سمیت دیگر اداروں میں کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روکنے والے ادروں کے واجبات روکے اور انہیں سرکاری اشتہارت نہ دئیے جائیں۔

