پبلک نیوز ایسے ہی چلے گا، کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔۔

پبلک نیوز جس کا نعرہ زبان خلق ہے اپنے ورکرز کے حلق کو آگیا ہے۔۔ کے یوجے اور پی ایف یوجے کی واضح وارننگز کے باوجود پبلک نیوزکی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔ الٹا کراچی کے بیوروچیف کا کہنا ہے کہ جس کو کام کرنا ہے کرے ،پبلک نیوز ایسے ہی چلے گا، جو کام کرنا چاہے کرے ورنہ گھر چلاجائے،ہم کسی کو کچھ نہیں دیں گے۔۔پپو کے مطابق ایک ہفتہ قبل ہی نیوزمارکیٹنگ اورسی ٹی ایس نے تنخواہیں نہ ملنے پربھرپوراحتجاج کرتے ہوئے کام بندکردیاجس پرپبلک نیوزکے سی ای او اورچیئرمین  سیٹھ کے کے رائٹ ہینڈ نے تمام ورکرزکودوماہ کی فوری طورتنخواہ اداکرنے کی نویدسنائی اور آخرمیں چیئرمین  صاحب نے تمام اسٹاف کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف دوتنخواہیں اسی ماہ دینے کاوعدہ کیابلکہ جوتیس فیصد تنخواہیں کاٹی جارہی تھیں وہ بھی اگلےماہ سے بحال کرنیکابھی اعلان کیا۔مگرہمیشہ کیطرح اس مرتبہ بھی وہ وعدہ پورانہ کرسکے اوربیس ہزارتک تنخواہ رکھنے والے ملازمین کوایک تنخواہ دیدی گئی صرف نیوزڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افرادکومگربیس سے اوپروالے ورکرزکوابھی تک تنخواہ نہیں دی گئی ۔نہ توسی ٹی ایس نہ ہی مارکیٹنگ اسٹاف کو۔سیٹھ توسیٹھ ہے مگرسیٹھ کے ہرکارے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداربنے پھرتے ہیں جب کچھ ملازمین نے بیوروچیف کراچی سے  بات کرنیکی کوشش کی تووہ سیدھادھمکیوں پراترآئے اوربولے جس کوکام کرناہے کرے ایسے ہی پبلک نیوزچلے گاجوکرناچاہے کرے ورنہ گھرجائے کچھ نہیں دیں گے ہم ۔پبلک نیوزکے ورکرزاس وقت انتہائی مایوسی کاشکارہیں ۔ملازمین نے وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ وزیراطلاعات سندھ سیدناصرحسین شاہ اوروزیرقانون مرتضیٰ وہاب  اورکراچی یونین آف جرنلسسٹس  کے تمام دھڑوں سے اپیل کی ہے کہ پبلک نیوزکے ملازمین کاساتھ دیں اوران کی دادرسی کریں پبلک نیوزکے مالکان اورانتظامیہ اب کسی کوکچھ بھی دینے کوتیارنہیں۔۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں