ptv qaaseedago ban chuka hai

 پی ٹی وی پر اپوزیشن کیلئے گنجائش ختم۔۔

سرکاری ٹی وی صرف سرکار کے موقف کی نمائندگی و ترجمانی کریگا۔حکومتی ٹی وی چینل پراپوزیشن کوبرابرکا وقت نہیں دیاجائیگا۔ اب صرف حکومت کو ٹی۔وی پروقت دیا جائیگا۔ یہ بات معروف قانون دان نعیم بخاری نے سرکاری ٹی وی کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے اپنی گفتگو میں پہلے فیصلے کے طور پر کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سرکاری چینل ہے اس لیے صرف حکومت کی نمائندگی کریگا۔ جنگ کے مطابق  نعیم بخاری سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں، وہ تحریک انصاف کی قیادت کے کیسز بھی لڑ چکے ہیں۔ یہاں یہ بات غیر معمولی طور پر قابلِ ذکر ہے کہ سرکاری ٹی وی کی لائسنس فیس بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے وصول کی جاتی ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ جولوگ اپنے گھروں میں ٹی وی نہیں بھی رکھتے اور رکھتے ہیں تو وہ سرکاری ٹی وی کی نشریات سے استفادہ ہی نہیں کرتے لیکن اگر ان کے گھر میں بجلی کابل آتا ہے تو انھیں ٹی وی لائسنس فیس ادا کرنی پڑتی ہے ۔ وفاقی حکومت اور سرکاری ٹی وی اس مد میں ہر سال اربوں روپے کماتا ہے اور اس پر طرہّ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے لائسنس فیس 35 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 100 روپے ماہانہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے پہلے بھی ایسی ہی کوشش کی گئی تھی اور تجویز وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی تھی لیکن اس پر شدید رد عمل آیا جس باعث اسے موخر کرنا پڑا نئے چیئرمین نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سرکاری ٹی وی پر اپوزیشن کی کوریج کے فیصلے کا جو اعلان فرمایا ہے اس تناظر میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ایسے لوگوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے جن کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو کیا وہ یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب نہیں ہونگے کہ جب وہ اپنے رہنمائوں کی سرگرمیاں اور قائدین کے موقف کو سرکاری ٹی وی پر دیکھ ہی نہیں سکیں گے تو پھر وہ سرکاری ٹی وی لائسنس فیس کیوں دیں۔ یاد رہے کہ جب 2004 میں ٹی وی لائسنس فیس 25 روپے ماہانہ تھی اور سرکاری ٹیلی ویژن کو چار بلین سالانہ آمدنی ہورہی تھی اس وقت کی حکومت کیخلاف دھرنے میں موجودہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر حساب لیں گے کہ ٹیلی ویژن فیس کی مد میں عوام کی جیب سے ماہانہ کروڑوں روپے کس کھاتے میں جارہے ہیں؟

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں