وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ نعیم بخاری پاناما میں میرے وکیل بعد میں بنے اس سے پہلے وہ 50 سال سے پی ٹی وی سے وابستہ رہے ہیں اور ان سے زیادہ اس ادارے کو شاید ہی کوئی سمجھتا ہو، ہماری درخواست پر انہوں نے یہ ذ مہ داری قبول کی ہے ، یہ ایگزیکٹو نہیں ہیں بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جو پالیسی بناتا ہے ۔ پی ٹی وی پر حکومت کا موقف سامنے آنا چا ہئے لیکن اس کی ساکھ بھی بی بی سی اور ٹی آر ٹی کی طرح بنانے کی ضرورت ہے ، پی ٹی وی پر حزب اختلاف کو وقت ملنا چا ہئے ۔تنقید معاشرے کا اثاثہ ہوتی ہے اور ہر ایک کو تنقید کی آزادی ہونی چا ہئے لیکن جو پیسے لیکر اور بدنیتی سے تنقید کرتے ہیں وہ بے نقاب ہوجاتے ہیں ، صحیح تجزیہ کرنیوالے صحافی ہی اثاثہ ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا مطیع اللہ جان کے غائب ہونے پر فوری ایکشن لیا ،باقیوں کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے ۔۔

